Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
53 - 274
 ہے ،مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ اسے لوگوں میں ظاہر فرماتا ہے یا نہیں  کیونکہ لوگوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔
	پھر شیطان اس پرایک اورحملہ یہ کہتےہوئےکرتاہےکہ تجھےعمل کرنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اگر تو خوش بخت پیدا کیا گیا ہے تو عمل نہ کرنا تجھے کوئی نقصان نہیں دے گا اور اگر تو بدبخت پیدا کیا گیا ہے تو عمل کرنا تجھے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ 
	اس موقع پراگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے الہام فرما ئے تو وہ اُس سے کہے گا: میں بندہ ہوں اور بندے پرلازم ہے کہ وہ  بندگی کا حق ادا کرتے ہوئےاپنے مالک ومولیٰ کے حکم پر عمل کرے اور رب عَزَّ  وَجَلَّ اپنی ربوبیت کو بہتر جانتا ہے وہ جو چاہے حکم دے اور جو چاہےکرے اور میں جیسا بھی ہوں اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے میرے عمل کا فائدہ دے گاکیونکہ اگر میں خوش بخت ہوں تو زیادہ ثواب کی خاطر عمل کا محتا ج ہوں اور اگر بدبخت ہوں تو پھر بھی عمل کا محتاج ہوں تاکہ ترکِ عبادت پر خود کو ملامت نہ کروں ۔پھر یہ بات تو طے ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عبادت واطاعت پرمیری کبھی پکڑ نہیں فرمائے گااور نہ ہی مجھے یہ نقصان دے گا کہ مجھےجہنم میں ڈالاجائے اور میں فرماں بردار ہوں کیونکہ مجھے نافرمان ہوکرجہنم میں داخل ہونے سے یہ زیادہ پسند ہے۔ ایسا کیونکر ہو سکتا ہے حالانکہ اس کا وعدہ حق اور قول سچا ہے اور بے شک اس نےعبادت پرثواب  کاوعدہ فرمایاہےتوجوشخص ایمان وعبادت کےساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملے گا وہ ہرگز جہنم میں نہیں ڈالا جائے گا اور بندہ اپنے اعمال کی بدولت جنت کا مستحق نہ ہوگابلکہ ربّعَزَّ  وَجَلَّ کےسچےوعدےکےطفیل جنت میں جائےگا،اسی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نےخوش بختوں کے اس قول کو بیان فرمایا :
وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ صَدَقَنَا		ترجمۂ کنزالایمان:وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ