Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
52 - 274
	اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُسے بچانا ہوا تووہ شیطان سے کہے گا:اطمینان وسکون کے ساتھ تھوڑا عمل نقصان کے ساتھ زیادہ عمل سے بہتر ہے۔ پھر وہ اُسے لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل پر اُبھارتا ہے،اگراُسے اِلہامِ ربانی ہو تو وہ اُس کا رد کرتے ہوئے کہے گا: 
	میں لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کیوں کروں کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا دیکھنا میرے لیے کافی نہیں ہے؟
	اب شیطان اُسے خود پسندی میں مبتلا کرنے کے لئے کہتا ہے: تم تو بہت عظمت والے اور شب بیدار ہو۔
	اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُسے بچایا تو وہ اُس سے کہے گا:اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ تو اللہ عَزَّوَجَلَّکا احسان ہے کہ اس نے مجھے چُن لیا اور توفیق بخشی اور میرے عمل کو اپنے فَضْل سے عظیم کیا ، اس کا فضل نہ ہوتا تومیری نافرمانی کے باوجود اُس کی مجھ پر نعمت کے مقابلے میں اس عمل کی کیا حیثیت ہے۔
	اب شیطان سب سے زیادہ خطرناک وار کرتاہے، اسے وہی سمجھ سکتا ہے جو پوری طرح ہوشیار ہوپس وہ بندے سے کہتا ہے:تم چُھپ کر عمل کرتے رہواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے لوگوں میں مشہور کر دے گا۔یوں بندے کا عمل مشکوک ہو جاتا ہے اور یہاں شیطان کا مقصد ریاکاری میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔ 
	اگراس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے بچائے تو وہ شیطان سے کہتا ہے: او لعنتی!پہلے تو میرے عمل میں فساد ڈالنے کی کوشش کرتا رہا اور اب مجھے مخلص ہونے کا کہہ کر وارکرتاہے، سن!میںاللہ عَزَّوَجَلَّکابندہ ہوں اوروہ میرامالک،اس کی مرضی میرے عمل کو ظاہر کرے یا پوشیدہ رکھےاوراس کی مرضی وہ مجھےعزت دےیاحقیرکرےاورمیرامعاملہ اُسی کےسپرد