پرعمل کرنےمیں خوف وخشیت،صبروتحمل اورآخرت پرنظرہوتووہاللہ عَزَّ وَجَلَّیافرشتےکی جانب سے ہوگا۔
نشاط سےمرادیہ ہےکہ انسان بےبصیرتی اورانجام سے غافل ہوکرکسی فعل کو کرنے میں خودکو ہلکا پھلکا محسوس کرے۔رہاجلدبازی نہ کرنا تویہ پسندیدہ ہے مگر چند کاموں میں جلدی پسندیدہ ہےجیسےبالغ لڑکی کی شادی کرنا،قرض اداکرنا،میت کی تجہیزوتکفین کرنا، مہمان کی مہمان نوازی کرنا اور گناہ سے توبہ کرنا۔خوف سے مراد یہ ہے کہ دل میں یہ ڈر ہو کہ شایدمیں نیک خیال پراچھی طرح عمل کرسکوں گایانہیں اورپتا نہیں کہ یہ بارگاہِ الٰہی میں قبول ہویا نہ ہو؟پس دل میں آنےوالےخیالات میں نظرکرنےکایہی طریقہ ہے۔تم اپنے اَقوال واَفعال کا محاسبہ کرو تاکہ تمہیں ان کےدرمیان فرق معلوم ہوجائےکیونکہ یہ انتہائی عمدہ علوم اور بہترین راز ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّہی توفیق دینے والا ہے۔
تابڑتوڑ شیطانی حملوں کا دفاع:
شیطان کےمکروفریب اوردھوکوں میں سےیہ بھی ہےکہ وہ بندےکوعبادت سے روکتا ہے،اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسےالہام فرمائےتووہ شیطان کویہ کہہ کردورکرےگا:مجھےعبادت کی شدید حاجت ہے کیونکہ مجھے اس فانی دنیا سے باقی رہنے والی آخرت کےلئے زادِراہ جمع کرنا ہے۔
پھرشیطان اسےعمل کوٹالنےکاکہتاہےپس اگراللہ عَزَّ وَجَلَّاُسےبچاناچاہےگاتووہ شیطان سے کہے گا: میری موت میرے قبضے میں نہیں ہے کہ میں آج کا کام کل پر چھوڑ دوں پھر جو کام کل ہو گا وہ کب کروں گا کیونکہ ہر دن نیا کام ہوتا ہے۔
اب شیطان اُسے جلد بازی کی دعوت دیتے ہوئے کہتاہے:جلدی کر جلدی کر تاکہ تو فلاں فلاں کام کے لئے فارغ ہو جائے۔