Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
50 - 274
 ہوتواللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سےہوتاہےاوراگراُس میں ترددہوتوفرشتےکی جانب سے ہوتا ہے کیونکہ وہ نصیحت کرنے والا ہے جو ہر جگہ تمہارے ساتھ جاتا ہے اور تمہیں ہر بھلائی کی طرف بلاتاہےیہ امیدکرتےہوئےکہ تم بھلائی قبول کرو گے اور اس میں رغبت کرو گے۔ یونہی جب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں کوشش کرو تو اس کے بعد پیدا ہونے والا نیک خیال بھی مِنْ جانبِ اللہ ہوتا ہے کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ(پ۲۱،العنکبوت:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جنھوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرورہم انھیں اپنےراستےدکھادیں گے۔
	ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
وَ الَّذِیۡنَ اہۡتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی (پ۲۶،محمد:۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اورجنھوں نےراہ پائی اللہ نے ان کی ہدایت اور زیادہ فرمائی۔
	اور اگر وہ نیک خیال ابتِداءً پیدا ہو تو زیادہ تر فرشتے کی جانب سے ہوتا ہے،پھر اگر وہ نیک خیال باطنی اصول واعمال کے متعلق ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے ہو گا اور اگر ظاہری فروعی اعمال کے متعلق ہو تو اکثر اوقات فرشتے کی جانب سے ہو گاکیونکہ بیشترعلما کے نزدیک فرشتہ بندے کے باطنی امورسے آگاہ نہیں ۔
اچھے خیال سے شیطانی دھوکا:
	شیطان کی طرف سے گناہ میں مبتلا کرنے کے لئے بطور دھوکا ڈالے جانے والے نیک خیال کی نشانی یہ ہےکہ تم غورکرواگراس پرعمل کرنےمیں دل میں نشاط یعنی چستی ہو خوف وخشیت نہ ہو، جلد بازی ہو صبر وتحمل نہ ہو، بے خوفی وامن ہو خوف نہ ہو،آخرت پرنظرنہ ہواوربےبصیرتی  ہوتووہ شیطان کی طرف سےہےلہٰذااس سےبچواوراگراس نیک خیال