ہونے تک پیچھے نہیں ہٹتا اور شیطان بھیڑیے کی مانند ہے اگر تم اسےایک جانب سے روکو گے تو دوسری طرف سے آ گھسے گا۔
اگر وہ خیال کوئی گناہ ہونے کے بعد دل میں آئے تووہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ہے تاکہ اُس گناہ کی بُرائی سے نفرت اور سزا کا احساس دلایا جائے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾(پ۳۰،المطففین:۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان:کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے۔
کیونکہ گناہ دل کی سختی کی طرف لے جاتے ہیں،اس میں پہلے خیال آتا ہے پھر سختی اور زنگ چڑھتا ہے۔
پھراگرخیالِ شرگناہ کےبعدنہ آئےبلکہ ابتدائی طورپرہوتوجان لوکہ وہ شیطان کی جانب سےہےکیونکہ شیطان بُرائی کی دعوت سےہی ابتداکرتاہےاورہرحال میں بندےکوپھانسنا چاہتاہےاوراگروہ بُراخیالاللہ عَزَّ وَجَلَّکاذکرکرنےکےباوجودکمزورہوتاہےنہ گھٹتاہےتوخواہش نفس کی جانب سےہے اور اگر ذکر سے کمزورپڑتاہےتوشیطان کی طرف سےہےکیونکہ حدیث مبارک میں آیاہے:شیطان آدمی کے دل سے چمٹا رہتا ہے جب وہ اللہکاذکر کرتا ہے تو شیطان ہٹ جاتا ہےاورجب انسان غافل ہوتاہےتووہ وسوسےڈالتاہے۔“(1)لہٰذاتم بُرےخیالات ڈالنے والے خَنَّاس (شیطان)سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگو۔
بھلائی کی طرف بُلانے والا:
دل میں پیداہونےوالےاچھےخیال کی پہچان یوں بھی ہوتی ہےکہ اگروہ خیال مضبوط
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مصنف ابن ابی شیبة،کتاب الزھد،کلام ابن عباس،۸/۱۹۶،حدیث:۵
شعب الایمان،باب فی محبة الله،۱/۴۰۲،حدیث:۵۴۰