رغبت کے بجائے طبعی وفطری طور پرمائل ہو تو وہ بُراہے کیونکہ نفس فطرتی طور پر برائی ہی کا حکم دیتا ہے اور اپنی اصل کے لحاظ سے بھلائی کی طرف مائل نہیں ہوتا۔پھر اگر دل میں پیدا ہونے والاخیال مضبوط اور راسخ ہوتو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ یاخواہِشِ نفس کی جانب سے ہے اور اگر اس میں شک واضطراب ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔
خواہش چیتا اور شیطان بھیڑیا:
ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:نفسانی خواہش چیتے کی مانند ہے کہ جب تک اسے سخت شکست نہ دی جائے اور اس کے ساتھ شدّت کا معاملہ نہ کیا جائے مغلوب و مرعوب نہیں ہوتایا پھر اس خارجی(1)کی طرح ہے جو باطل دینی جذبہ سے لڑتا ہے اور قتل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…خوارج: جنہوں نے سب میں پہلے حضرت امیرالمؤمنین مَوْلَی الْمُسْلِمِیْن سیِّدُنامولیٰ علیکَرَّمَ اللہُ وَجْہَہٗپر خروج کیا اوراَسَدُاللہِ الْقَہَّارکافرشکار(کافروں کاشکارکرنےوالے)سےدارالبوار(جہنم)کا رستہ لیا جن کی نسبت حدیث میں آیا کہ وہ قیامت تک منقطع نہ ہوں گے۔ جب ان کا ایک گروہ ہلاک ہوگا دوسرا سر اٹھائے گا یہاں تک کہ ان کا پچھلا طائفہ دجال لعین کےساتھ نکلےگابموجب اس وعدہ صادِقہ کے یہ قوم مغضوب ہمیشہ فتنے اٹھائے گی،تیرہ صدی کے شروع میں ا س نےدیارِنجدسےخروج کیا اوربنام نجدیہ مشہورہوئی جن کاپیشوانجدی تھااسی کامذہب میاں اسمعیل دہلوی نے قبول کیا اور اس کی کتاب کا ترجمہ بنام تقویۃُالایمان کہ حقیقۃً تفویَتُ الایمان ہےان دیارمیں پھیلایااوربلحاظ مُعلِّمِ اوّل وہابیہ وبنظرمُعَلِّمِ ثانی اِسْمٰعِیْلِیہ لقب پایا اس طائفہ کا ہمیشہ سے یہی مذہب رہاہے کہ دنیا میں وہی موحد ومسلم ہیں باقی سب مَعَاذَ اللہکافر۔ردُالمحتار میں ہے : اصحاب رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکومَعَاذَ اللہ کافر کہناکچھ خارجیوں کے لئے ضروری نہیں بلکہ خاص یہ ان خارجیوں کا بیان حال ہے جنھوں نے ہمارےآقامولیٰ علیکَرَّمَ اللہُ وَجْہَہٗپرخروج کیا تھا خارجی ہونے کو اتنا کافی ہے کہ جن پر خروج کریں انھیں اپنے عقیدے میں کافر جانیں۔بزازیہ میں ہے: خارجیوں کو کافر کہناواجب ہےاس بناء پر کہ وہ اپنے سوا تمام امت کو کافر کہتے ہیں۔(فتاویٰ رضویہ، ۱۵/۲۳۴ ملتقطًا)ان کےبہت سے عقائداسلام کے خلاف ہیں جن میں سےایک یہ بھی ہےکہ’’ گناہِ صغیرہ یا کبیرہ کامرتکب مسلمان نہیں رہتا۔‘‘(شرح العقائد النسفية،ص:۲۵۳)