Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
47 - 274
 صرف خیال کہتے ہیں۔
	دوسری قسم: وہ خیال جو انسانی طبیعت کے موافق  دل میں پیدا ہواُسے خواہِشِ نفس کہا جاتا ہے۔ 
	تیسری قسم: وہ خیال جومُلْہِم(فرشتے) کی دعوت کے بعد دل میں پیدا ہواُسے الہام کہتے ہیں۔ 
	چوتھی قسم: وہ خیال جو شیطان کی دعوت کے بعد دل میں پیدا ہواُسے  وسوسہ کہا جاتا ہے۔
	شیطانی خیالات اس کی دعوت کے وقت پیدا ہوتے ہیں اور شیطان ان کا سبب ہوتا ہے ورنہ حقیقت میں ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے۔یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جو خیال ابتدا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب سے ہوتاہےوہ کبھی اکرام وعزت کے لئے بھلائی پر مشتمل ہوتا ہے اور کبھی امتحان کی خاطر ایسا نہیں ہوتا ۔ البتہ ملہم کی جانب سے دل میں آنے والا خیال نیک ہی ہوتا ہے کیونکہ اسے نصیحت اور ہدایت ہی کے لئےمقرر کیا گیا ہے اور جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے وہ شر، گمراہی اور دھوکاہی  ہوتا ہے جبکہ خواہِشِ نفس کی جانب سے پیدا ہونے والا خیال بھی برا ہوتا ہے۔
کون سا خیال اچھا اور کون سا بُراہے؟
	اے بندے!تمہیں جو بھی خیال آئے اسے شریعت پر پیش کرو، اگر وہ شریعت کی کسی بھلائی سے موافق ہو تو اچھا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو بُرا ہے۔اگریہاں سے واضح نہ ہو توبُزرگانِ دین کی سیرت پر پیش کرو کہ اگر اسے عملی جامہ پہنانے میں ان کی پیروی ہو تووہ اچھا ہے اور اگر ان کے عمل کے خلاف ہو تو بُرا  ہے۔ اگر پھر بھی معاملہ واضح نہ ہو تو اسے اپنے نفس وخواہش پر پیش کرو، اگر نفس  اُسے کسی خوف وڈر کے بجائے طبعی نفرت کے لحاظ سے ناپسند کرے تو سمجھو وہ اچھا ہے اور اگر نفس اس کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّسے کوئی امید یا کسی