Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
46 - 274
خطرات اور ان کی اقسام  جاننے کے بعد ہو جائے گی اور یہ کہ شیطان کے پاس جال کی طرح حیلے بہانے ہیں جنہیں وہ شکارکے لئے نصب  کرتا ہے اور یہ بھی  شیطان کی مکاریوں ،ان کی جگہوں اور راستوں کی پہچان کے بعد واضح ہو جائیں گے۔
قلبی خیالات وخطرات کا بیان
ملہم ،وسواس اور خواہش:
	خواطریعنی دل میں آنے والے خیالات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ انسان کے دل پر ایک فرشتہ مقرر کرتا ہے جو اسے بھلائی کی دعوت دیتا ہے،اسے  مُلْہِم اوراس کی دعوت کو الہام کہا جاتا ہے اور اس فرشتے کے مقابلے میں ایک شیطان مُسلَّط کیا جاتا ہے جو بُرائی کی طرف بلاتا ہے،اسے وسواس اور اس کی دعوت کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ ملہم بھلائی کی طرف بلاتا ہے جبکہ وسواس بُرائی کی طرف یا بڑی نیکی سے روکنے کے لئے چھوٹی نیکی کی طرف یاکسی  بڑے گناہ میں مبتلاکرنے والی کسی بھلائی کی طرف  بلاتا ہے اور وہ بھلائی اُس بڑے شر جیسے خود پسندی وغیرہ کا بدل نہیں بن پاتی۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ نے انسان کی بنیادمیں ایسی طبیعت رکھی ہے جو خواہشات  و لذات کی طرف مائل ہوتی ہے خواہ وہ اچھی ہوں یا بری ،اس چیزکا نام خواہِشِ نفس ہے جو انسان کو آفات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ تین ہیں یعنی ملہم، وسواس اور خواہِشِ نفس جو انسان کو مختلف  باتوں کی طرف بلاتے ہیں۔
قلبی خیالات کی چار اقسام:
	بندے کے دل میں پیدا ہونے والے خواطر یعنی خیالات ایسے آثار ہیں جو اسے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر اُبھارتے ہیں۔ ان کی چار اقسام ہیں:
	پہلی قسم:وہ خیال جوابتِداءًاللہ  عَزَّ وَجَلَّکی جانب سےبندےکےدل میں پیدا ہواسے