ہےاور تم غفلت میں پڑے ہو۔
غورکرواس وقت شیطان کا کیا حال ہو گا جب تم عبادتِ الٰہی میں لگے رہو اوراپنے قول وفعل سے مخلوق کو بارگاہ ربُّ العزت کی طرف بلاؤ جو شیطان کی خواہش کے بالکل خلاف ہے تو یوں تم شیطانی مکروفریب کے خلاف اپنی کمر کس لوگے تو اب وہ بھی انتہائی غصے میں اپنی کمر کس لے گا تاکہ تم سے لڑے اور تمہیں ہلاک کرے حتّٰی کہ تمہارا معاملہ ہی بگاڑ دے بلکہ تمہیں پوری طرح ہلاک کر ڈالےکیونکہ وہ تو انہیں بھی بُرائی وہلاکت میں مبتلا کرنےسے باز نہیں آتا جو اس کے دشمن نہیں بلکہ دوست ہیں جیسے کفار،گمراہ اور خواہشات کے پیروکار۔ توسوچو!وہ اُس کے ساتھ کیا کرے گا جو اس کی دشمنی پر کمر بستہ ہے؟
شیطان کی عام اور خاص دشمنی:
اےعلم وعبادت کےلئےکوشاں بندے!عام لوگوں کےساتھ اس کی دشمنی عام ہے مگرتمہارے ساتھ اس کی دشمنی خاص ہےاور تمہارامعاملہ اس کے لئے بہت اہم ہےاور تمہارےخلاف اس کےمددگاربھی بہت ہیں،جن میں سے مضبوط ترین خودتمہارانفس اور تمہاری خواہش ہے۔اس کےعلاوہ اس کےپاس بہت سےایسےاسباب وذرائع اوردروازے ہیں جن سے تو غافل ہے۔
شیطان سے جنگ کا طریقہ:
شیطان پرغلبےکےلئےاُس سےتمہاری جنگ کاطریقہ یہ ہےکہ تم شیطان کےشرسے اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگو،اس پرقائم رہ کرشیطان کےساتھ جہادکرواوراس کی تردید ومخالفت کرتے رہو تاکہ تمہیں جہاد، صبر، صفائی اور شہادت میں سے حصہ نصیب ہو جائے جیسا کہ کفار کے خلاف جہاد کرتے ہوئے یہ سب نصیب ہوتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: