Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
41 - 274
کہ دشمنوں کے اتفاقی اور اچانک حملوں سے بے خوف ہونا درست نہیں۔لہٰذابھلائی کے طالب اورریاضت ومجاہدہ کرنے والے کے لئےاللہ والوں کے ساتھ رہنا اور صحبت کی مَشَقَّت برداشت کرنا ہی بہتر ہے۔
	اپنے اسلامی بھائیوں کی زیارت و ملاقات میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بہت زیادہ نہ ہو اور اس میں ریاکاری، تکلّف وبناوٹ، غیبت اور فضول گوئی نہ ہو ورنہ اس کا وبال تم پر اور تمہارے بھائی پر آئے گالہٰذاتم پر لازم ہے کہ تمہارااسلامی بھائیوں کے ساتھ بیٹھنا اور ان سے ملاقات کرنا احتیاط اور خندہ پیشانی کے ساتھ  ایک درمیانی حد تک رہے،پس یہ انداز تمہاری  لوگوں سےکنارہ کشی اورگوشہ نشینی کونقصان نہیں دے گا اور نہ ہی تم پر اور تمہارے اسلامی  بھائی پر کوئی آفت ومصیبت پڑے گی بلکہ کثیر بھلائی کا باعث ہوگی  اورتوفیق دینے والی ذاتاللہ عَزَّ وَجَلَّہی  کی ہے۔
گوشہ نشینی پر اُبھارنے اور اسے آسان کرنے والے امور
	لوگوں سےکنارہ کشی پراُبھارنےاوراسےتمہارےلئے آسان بنانے والےامورتین ہیں :
(1)…اپنے وقت کو عبادت میں گزارنا کیونکہ یہی اصل مشغولیت ہےجبکہ لوگوں کے ساتھ اُنسیت و میل جول افلاس  ودیوالیہ پن کی علامت ہے۔ جب تم محسوس کرو کہ تمہارا نفس بغیر کسی ضرورت وحاجت کے لوگوں سے ملنے اور بات چیت کرنے کو چاہ رہا ہے تو سمجھ جاؤ یہ ایک فضول کام ہے جس کی طرف بےکاری اور فراغت تمہیں لے جارہی ہے مگرجب تم  خود پرعبادت کو لازم کرلو گے تو تم مناجات کی حلاوت اور کتاب اللہ سے انس و محبت پاؤ گے،مخلوق سےبےپروا ہوجاؤگےاوران کی ملاقات وگفتگوسےتمہیں وحشت ہونےلگےگی۔