Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
40 - 274
ہوگااورگوشہ نشینی کامطلب بھی یہی ہے،محض مکان یاجسم کی علیحدگی مقصود نہیں۔
خانقاہوں میں گوشہ نشینی:
	دینی مدارس اورراہِ آخرت کے مسافر وں کی خانقاہوں میں گوشہ نشین ہو کر ان کے ساتھ میل جول رکھنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ وہ علم وعمل کے معاملے میں نیکی اورتقویٰ پر ایک دوسرے کی  مددکریں اور باہم حق و صبر کی نصیحت کریں اور اگران کے احوال بِگڑچکے ہوں،وہ سلف صالحین کےنقشِ قدم سےہٹ گئےہوں اورانہوں نےاسلاف کےطریقے چھوڑدیئےہوں تواب بندےکوچاہیےکہ خانقاہ میں اپنےکونےکولازم پکڑے،اپنی زبان کو روکے رکھے، نیک کاموں میں ان کے ساتھ شامل ہو مگر ان کے اَحوال اور اِن کی آفات سے خود کو بچائے رکھے پس یوں یہ گوشہ نشینوں میں رہتے ہوئے گوشہ نشینی میں ہوگا ۔
خانقاہیں محفوظ قلعے ہیں:
	 گوشہ نشینی کا بیان کردہ طریقہ بیابانوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر جانے سے بہتر ہے کیونکہ یہ مدارس اور خانقاہیں ایک محفوظ قلعے کی مانند ہیں، مجاہدہ کرنے والےیہاں رہ کر ڈاکوؤں اور چوروں سے محفوظ رہے ہیں جبکہ ان سے باہر رہنے والا گویا کہ ایسے صحرا میں ہوتا ہے جہاں ہر وقت شیطانی لشکر گھومتے رہتے ہیں جو باہر رہنے والے کو لوٹ لیتے ہیں یا قیدی بنالیتے ہیں تواگر وہ اصل صحرا کی طرف نکل گیا تو اُس کا کیا حال ہوگا جب دشمن  اُسے چاروں طرف سےگھیرکراُس کے ساتھ جوچاہےگاکرےگا؟لہٰذاکمزورشخص کےلئے مضبوط قلعےمیں رہناہی ضروری ہے۔لیکن قوی اورایمانی بصیرت سےبہرہ ورشخص پردشمن  غالب نہیں آسکتے اس کے لئے قلعہ اور صحرا ایک ہی جیسے ہیں ،وہ اگر صحرا کی طرف نکلنا چاہےتو کوئی حرج نہیں اگرچہ ہر حال میں زیادہ بہتر یہی ہے کہ حفاظتی قلعے میں رہا جائے، اس لئے