لوگ ا س کی ڈانٹ ڈپٹ سے بُرائی سےبازآسکتے ہوں تو انہیں مناسب ڈانٹ ڈپٹ بھی کرےاورجوحقوق ان میں رہنےکےباعث اس پرلازم آتےہیں انہیں اداکرتارہےمثلاً: وقتاًفوقتاًان سےملاقات کرے،بیماروں کی عیادت کرے اورجتنا ممکن ہو ان کی حاجات پوری کرے مگر ان سے کسی قسم کا مطالبہ کرے نہ اس کی اُمید رکھے،حسبِ استطاعت ان پر خرچ کرے مگر ان سے کوئی چیز نہ لے، جو تکلیف یا ایذا ان سےپہنچے اسے برداشت کرے،ان کے لئے خوشی کا اظہار کرے ،ان کی خاطر اپنے ظاہرکوآراستہ رکھے،اپنی حاجتوں کوان سےپوشیدہ رکھےاوران کااِنتظام خودکرے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنےنفس پرنظررکھےاوراپنےلئےخالص عبادت سےکوئی حصہ مقرر کرے۔جیسا کہ
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: اگر میں رات کو سوتا ہوں تو اپنا نقصان کرتا ہوں اور اگر دن کو سوتا ہوں تو رعایا کا نقصان کرتا ہوں اب ان دو باتوں کے ہوتے ہوئے میں کیسے سو سکتا ہوں؟
لوگوں میں رہ کر گوشہ نشینی:
یادرہےاس فرمان نبوی:”عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِیعنی تم پرجماعت کےساتھ رہنالازم ہے۔“(1) سےگوشہ نشینی کےطلبگارکوشک وشبہےمیں نہیں پڑناچاہیےکیونکہ اس حدیْثِ مبارک کا مطلب ہے مسلمانوں کی اجتماعیت کو نہ توڑے، جمعہ وجماعت میں حاضر ہو اور میل جول سے پیدا ہونے والی بُرائیوں سے خود کو بچا کر نیک اجتماعات میں شرکت کرےاوریہ فتنے کا زمانہ نہ ہونے کے وقت ہے اور جب آدمی مسجد میں بیٹھ جائے اور لوگوں سے میل ملاپ کرے نہ ان کے کام میں مداخلت کرے تووہ جسمانی طور پر تو ان کے ساتھ ہو گا مگرباطنی طورپرجُدا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نسائی،کتاب الامامة، التشدید فی ترک الجماعة،ص۱۴۷،حدیث:۸۴۴