اسے شیطان اور اس کے لشکراورانسانوں وغیرہ کے شر سے محفوظ رہنے کا یقین ہو ورنہ بہتر یہی ہےکہ لوگوں کےدرمیان رہ کرتنہائی اختیارکی جائےاورجمعہ وجماعت وغیرہ میں شریک ہوا جائے، یہ طریقہ اس کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔
جنہیں گوشہ نشینی منع ہے:
جو شخص علم میں لوگوں کا پیشوا ہو یعنی لوگ اپنے دینی امور میں اس کے محتاج ہوں یا وہ حق بات کو واضح کرنے والا اور باطل کا جواب دینے والا ہویا اپنے قول وفعل وغیرہ سے نیکی کی دعوت دینے والا ہوتو ایسے شخص کو لوگوں سے کنارہ کشی کرکے گوشہ نشین ہونے کی اجازت نہیں، اسے لازم ہے کہ لوگوں کے بیچ رہ کر انہیں نصیحت کرے، دین اسلام پر ہونے والے شُبہات کے جوابات دے اور دین کے احکام کو واضح کرےکیونکہ حضور نبی اکرم،رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے:جب بدعتیں ظاہر ہوجائیں اور عالِم خاموش رہے تو اس پراللہ عَزَّ وَجَلَّکی لعنت ہے۔(1)
لوگوں کے ساتھ رہنے کے آداب:
پس وہ شخص لوگوں کے مابین طویل صبر،عظیم بردباری اورنگاہِ شفقت کےساتھ رہےاورہمیشہاللہ عَزَّ وَجَلَّسےمددطلب کرے۔باطنی طورپرلوگوں سےجُداہومگر جسمانی طور پران کے ساتھ رہے، اگر لوگ اس سے بات کریں تو یہ بھی ان سے بات کرے، وہ اس کی ملاقات کو آئیں تو حسبِ مراتب ان کا احترام کرے، وہ خاموش رہ کر اس سے اعراض برتیں تو اسے اپنے لیے غنیمت جانے، نیک کام میں ان کا ہاتھ بٹائے، انہیں بُرائی اور شرارت کی طرف مائل ہوتا دیکھے تو اُن کی مخالفت کرے اور ان سے الگ رہے اور اگر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند الفردوس،۱/۱۸۸،حدیث:۱۲۷۵