اِس زمانے میں کیسے رہیں؟
سیِّدُنافُضَیْل بن عِیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتےہیں:اس زمانے میں اپنی زبان کی حفاظت کر،خودکوپوشیدہ رکھ،اپنے دل کی اصلاح کر،اچھی چیزاختیارکراوربُری کوچھوڑ دے۔
حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نےفرمایا:یہ خاموشی اختیار کرنے اور گھر کو لازم پکڑنے کا زمانہ ہے۔
حضرت سیِّدُناداؤدطائیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:دنیاسےروزہ رکھ،آخرت میں جا کر افطار کر اور لوگوں سے ایسے بھاگ جیسے شیر سے بھاگتا ہے۔
ان نیک بزرگوں کا اپنے زمانے والوں سے بچنے پر اجماع واتفاق ہو گیا، انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کی اور اسی کی نصیحت کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہم سے زیادہ سمجھدار اور صاحبِ بصیرت تھےاور ان کے زمانے کے بعد زمانے میں بہتری کے بجائے خرابیاں اور بُرائیاں ہی زیادہ ہوئی ہیں۔
گوشہ نشینی کے آداب:
گوشہ نشینی اختیار کرنے میں تمام لوگوں کا معاملہ ایک جیسا نہیں ہے،جو عالِم ہے نہ حاکم ہے کہ مخلوق اس کی طرف محتاج ہو تو ایسے کے لئے گوشہ نشینی ہی بہتر ہے۔ البتہ جمعہ، باجماعت نماز، عید، حج، علم نافع کی مجلس اور ضروریات زندگی کے لئے وہ ضرور باہر نکلے، اس کے علاوہ خود کو چھپائے رکھے، اپنی پہچان کروائے نہ کسی کو پہچانے اور اگر وہ جمعہ اور جماعت وغیرہ میں بھی لوگوں سے میل جول سے باز رہنے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس میں اپنی اور اپنی دل کی بہتری سمجھتا ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسی جگہ چلا جائے جہاں اس پر جمعہ اور جماعت وغیرہ لازم نہ ہوں جیسے جنگل یا پہاڑوں کی چوٹیاں وغیرہ مگر شرط یہ ہے کہ