Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
33 - 274
 ایک قطرہ ڈال دے، زہر ڈالتے وقت ایک شخص  اسے دیکھ رہا ہومگر دوسرا اس سے بے خبر ہو تو جب دونوں کے سامنے وہ بہترین اور عمدہ حلوہ کھانے کے لئے رکھا جائے گا تو جسے زہر کی ملاوٹ کا علم ہے وہ اس سے کنارہ کشی اختیار کر لے گااور اس کی ظاہری عمدگی سے دھوکا نہیں کھائے گا جبکہ وہ جس نے زہر کو دیکھا نہیں تھا کھانے کے لئے للچائے گا اور نہ کھانے والے پر تعجب کرے گا بلکہ اسے بے وقوف سمجھے گا۔ پس دنیا کا حال بھی یہی ہے  اصحابِ بصیرت واستقامت  اس سے بچتے اور بے خبر وغافل اس پر فدا ہوتے ہیں۔ جبکہ دنیا کی حلال اشیاء ان بصیرت رکھنے والوں کے لئے اس حلوے کی طرح ہیں جس میں بنانے والے نےزہرتونہیں ڈالامگرتھوک دیایاناک  سےریزش ڈال دی تواسےدیکھنےوالاسخت ضرورت وحاجت کے علاوہ اسے استعمال نہیں کرے گا۔
دنیا سے بے رغبتی کا مقصد:
	جو زہد مطلوب ہے اُس سے مراد اُس فضول وزائد چیزسے بے رغبتی اختیار کرنا ہے جس کے بغیر زندگی گزاری جاسکتی ہو اور زندگی گزارنے کے لئے جتنی مقدار کی حاجت ہو اتنادنیا سے لینے میں حرج نہیں مگر یہ لذت کے ارادے سے نہ ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات پر بھی قادرہےکہ تمہیں سبب وذریعہ سےزندہ رکھےیاان کےبغیرجیسےفرشتوں کوبغیراسباب زندہ رکھاہے۔پھراگراس نےکسی شےکوتمہاراذریعہ بناناہےتوچاہےتوتمہارےپاس موجود شےکوبنادےیاتمہاری تلاش یاکمائی سےوہ شےتمہیں مل جائے یا پھر چاہے تو وہاں سے عطا فرما دے جہاں سے تمہارا  وہم وگمان بھی نہ ہو جیسا کہ اس کا فرمانِ عظیم ہے:
وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ(پ۲۸،الطلاق:۲،۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اورجواللہ سےڈرے اللہ اس کےلیےنجات کی راہ نکال دےگااور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔