دنیا سے دورکرنے والی باتیں:
تمہیں دنیا کو ترک کرنے اورمال کو تقسیم کرنے پر اُبھارنے والے اسباب یہ ہیں: دنیا کی آفات اور اس کے عُیُوب کو یاد کرنا، اس بات کو ذہن میں رکھنا کہ دنیا کا نفع بہت تھوڑا اورجلد ختم ہونے والا ہےاور دنیا کے سب طلبگار گھٹیا ہیں، پھر اس بات کو یاد کرنا کہ مجھ پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کثیر نعمتیں ہیں حالانکہ میں اس کی راہ میں اتنا خرچ نہیں کرتا جتنا وہ مجھے عطا فرماتا ہے۔ جب تم ان باتوں میں اچھی طرح غور کرو گے تو تم پر ترکِ دنیا اور تَقسیمِ مال کا معاملہ آسان ہوجائےگا۔یونہی یہ بھی یادکروکہ دنیااللہ عَزَّ وَجَلَّکی دشمن ہےاورتماللہ عَزَّ وَجَلَّ سےمحبت کرنےوالےہواورجوکسی کودوست ومحبوب رکھےاس کےدشمن کودشمن رکھتاہے۔ دنیا حقیقت میں میل کچیل اور مردار ہے،تم دیکھتے نہیں کہ اس کے لذیذ کھانے کچھ ہی دیر بعد خراب اور بدبودار ہو جاتےہیں۔ پس دنیاخوشبو میں بسا ایسا مردار ہے جس کے ظاہر کو دیکھ کر غافل لوگ دھوکے میں پڑ گئے اور عقلمندوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
عارفوں اورابدالوں کی روش:
حرام میں زہد اختیار کرنا یعنی بچنا فرض اور حلال میں نفل ومستحب ہے۔ حرام اس مردار کی طرح ہے جس کی طرف بندہ بوقتِ ضرورت ہی بڑھتا ہے۔حلال میں زہد اختیار کرنا عارفوں اورابدالوں ہی کی روش وطریقہ ہے، ان کے نزدیک حلال بھی مردار کی طرح ہوتا ہے جسے وہ ضرورت کے مطابق ہی استعمال کرتے ہیں جبکہ حرام ان کے نزدیک آگ کی طرح ہوتا ہے،ان کے تو دلوں پر اس کا خیال بھی نہیں گزرتااور نہ ہی غافلوں کی طرح اس کی لذتوں سے دھوکا کھاتے ہیں۔ظاہر میں اچھا نظر آنے والے حرام کی مثال یہ ہے:
ایک شخص نفیس اور عمدہ حلوہ تیارکرےمگر تیار کرنے کے بعد اس میں زہرِ قاتل کا