(1)…
تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیۡنَ لَا یُرِیۡدُوۡنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا(پ۲۰،القصص:۸۳)
ترجمۂ کنزالایمان:یہ آخرت کا گھرہم اُن کے لئے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد۔
(2)…
وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْہَا ۙوَمَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ﴿۲۰﴾)پ۲۵،الشورٰی:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجودنیاکی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سےکچھ دیں گےاورآخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔
(3)…
مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الْعَاجِلَۃَ عَجَّلْنَا لَہٗ فِیۡہَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِیۡدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَہٗ جَہَنَّمَ ۚ یَصْلٰىہَا مَذْمُوۡمًا مَّدْحُوۡرًا ﴿۱۸﴾ وَ مَنْ اَرَادَ الۡاٰخِرَۃَ وَسَعٰی لَہَا سَعْیَہَا وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ کَانَ سَعْیُہُمۡ مَّشْکُوۡرًا ﴿۱۹﴾ ( پ۱۵، بنی اسرائیل:۱۹،۱۸)
ان تمام فرامین میں معاملےکوارادےپرمعلق کیا گیاہے،اس سےمعلوم ہوا کہ
’’ارادہ‘‘ بہت بڑی چیز ہے لیکن جب بندہ پہلی دو چیزوں یعنی موجود مال راہِ حق میں صدقہ کرنے اور غیر موجودکی طلب سے بے نیاز ہونے پرہمیشگی اختیار کر لے تو امید ہے کہ ربّ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے طلبِ دنیا کے ارادے کو بھی اس کے دل سے نکال دے۔