حُضورنبی اکرم،رسولِ مُحْتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:’’ایسے عالِم کی دو رکعتیں جس کادل دنیاسےبےرغبت ہواللہ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک بغیرعلم کے قیامت تک عبادت کرنے والوں کی عبادت سے بہتر ومحبوب ہیں۔“(1)
زہداور اُس کی اقسام:
زُہد یعنی دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے عبادت زیادہ اور بلند مرتبہ ہو جاتی ہے لہٰذا عبادت کے طلبگار پر لازم ہے کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہوجائے اور اُس سے دور رہے۔ زُہد کی دو قسمیں ہیں: (۱)…اختیاری اور (۲)…غیر اختیاری۔
اختیاری زہد یہ ہے کہ جو پاس نہ ہو اس کی طلب نہ کرے، جو پاس ہو اسے تقسیم کر دے اور دنیا اور اس کے سازوسامان کا ارادہ چھوڑ دے۔غیر اختیاری زہد یہ ہے کہ دل دنیاوی اشیاء کے شوق وخیالات سے سرد پڑ جائے۔ جب بندہ اختیاری زہد اپنائے گا یوں کہ جو پاس نہیں اسے طلب نہ کرے، جو پاس ہے اسے دور کر دے اور دل سے دنیا کا ارادہ بھی نکال دے تو پھر اس کا دل دنیا سے سَرد پڑ جائے گا، دنیا اس کے نزدیک حقیر ہو جائے گی اور اسے دنیا کا خیال نہ آئے گا اور یہ غیر اختیاری زہدہے۔
زہدمیں ارادے کی اہمیت:
حقیقت یہ ہےکہ دل سےطلَبِ دنیاکاارادہ نکال دینابہت مشکل ہےکیونکہ ایسے بہت لوگ ہیں جواوپر سےتودنیا چھوڑنے والے ہیں مگر ان کے دلوں میں دنیا کی محبت چٹکیاں لیتی رہتی ہےاورایساشخص اسی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے حالانکہ زُہد کادارومدار ارادے ہی پر ہے، کیا تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے یہ ارشادات نہیں سُنے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…روح البیان،سورة الكهف،تحت الآية،۶۵ ،۵/۲۷۰