ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللہَ یَجِدِ اللہَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۱۰﴾(پ۵،النسآء:۱۱۰)
پر ظلم کرےپھراللہسےبخشش چاہےتواللہکو بخشنے والا مہربان پائے گا۔
امید ہے تمہیں نصوحی توبہ (جس کے بعد گناہ نہ ہو) کی توفیق ملےاورتم اپنے گناہوں سے ایسے پاک ہو جاؤ جیسے اُس دن تھے جب تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا اورتماللہتعالیٰ کے حکم سےاس گھاٹی کو عبور کرنے والے ہو جاؤاور توفیق دینااللہ عَزَّ وَجَلَّہی کا کام ہے ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
تیسری گھاٹی: رکاوٹوں کا بیان
عبادت کے طلب گار! تجھ پر ان چار رکاوٹوں کو دور کرنا بھی ضروری ہے:(۱)…دنیا (۲)…مخلوق(۳)…شیطان اور (۴)…نفس۔
پہلی رُکاوٹ:دنیا
دنیاکو خود سے ایسے دور کیا جاسکتا ہے کہ اس سے بچ کر خلوت اختیار کر لی جائے تاکہ تم استقامت اور کثرت سے عبادت کر سکو کیونکہ دنیا تمہارے ظاہر کو طلب میں اور باطن کو خواہشات میں مشغول کردیتی ہے۔ جہاں تک نفس کی بات ہے تو دل اور نفس ایک ہی چیز ہے، اگر یہ ایک چیز میں مشغول ہو جائے تو اس کے مخالف سے اس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے اور دنیا وآخرت کی مثال دو سوکنوں کی طرح ہے کہ ایک کو خوش کرو تو دوسری ناراض ہو جاتی ہے ، دنیاوآخرت مشرق ومغرب کی طرح ہیں کہ تم ایک سمت میں جس قدر بڑھو گے دوسری سمت سے اتنا ہی دور ہوتے جاؤ گے۔
حضرت سیِّدُناسلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتےہیں:بندہ جب دنیاسےبےرغبت ہوتاہےتو اس کا دل حکمت سے منوَّر ہو جاتااور اعضاء عبادت پر مددگار بن جاتے ہیں۔