اس شخص کےلیےکثرت سےاستغفارکروکیونکہ جباللہ عَزَّ وَجَلَّبندےکےدل میں سچائی دیکھتا ہے تو اپنے فضل سے اس کے دشمن کو اس سے راضی کر دیتا ہے۔
گناہ کی انتہا بدبختی ہے:
توبہ کی یہ گھاٹی بڑی مشکل ہے،اس کا معاملہ بہت اہم اور نقصان بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ گناہ کی ابتداسختی اورانتہابدبختی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں محفوظ رکھے۔(اٰمین)کیا تمہیں بلعم بن باعورا اور ابلیس لعین کا معاملہ یاد نہیں؟ ان کی ابتدا بھی گناہ سے ہوئی اور انتہا کفر پر ہوئی تو دونوں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر رحم فرمائے! تمہارےلئےتوبہ کےبارےمیں بیداری لازم ہے،اُمیدہےعنقریب گناہوں کی جڑ تمہارے دل سے اُکھڑ جائے اور ان کی نحوست کا بوجھ تمہاری گردن سے اُتر جائے۔
ایک گناہ پر 40 سال روئے:
حضرت سیِّدُناکہمس بن حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: مجھ سے ایک گناہ سرزد ہواتومیں اس پر40برس روتا رہا۔ لوگوں نے پوچھا:اے ابو عبداللہ! وہ کون سا گناہ تھا؟آپ نے فرمایا:’’ایک دفعہ میرا ایک دوست میری ملاقات کو آیا تو میں نے اس کے لئے مچھلی پکائی، جب وہ کھانا کھا چکا تو میں نے اپنے پڑوسی کی دیوار سے مٹی لے کر اپنے مہمان کے ہاتھ دُھلائے۔‘‘
پس اپنے نفس کی چھان بین ومحاسبہ کرو اور توبہ کی طرف جلدی بڑھو کیونکہ موت چھپی ہوئی ہے اور دنیا دھوکے کا سامان ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے عاجزی وانکساری کرواور اس کے اِس فرمانِ عالی کو یاد رکھو:
وَمَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ترجمۂ کنزالایمان:اورجوکوئی برائی یااپنی جان