بُزرگیاں اجمالی و سرسری طور پر بیان کی ہیں،اگر میں ان سب کی تفصیل بیان کرنے لگتا تو یقیناً ایک کی بھی پوری نہ کر پاتا اور ان سب کا احاطہ عالِمُ الغیب والشہادہ (یعنی ہرغائب وحاضر کوجاننے والا)ہی کرسکتا ہے جو کہ ان سب کا خالق ومالک جَلَّ جَلَالُہٗہے اورہمیں کوئی طمع نہیں کہ تمہیں ان کی حقیقت دکھائیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ(پ۲۱،السجدة:۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان:توکسی جی کونہیں معلوم جوآنکھ کی ٹھنڈک ان کےلیےچھپارکھی ہے۔
نیزحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:خَلَقَ فِیْھَامَالَاعَیْنٌ رَاَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَاخَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جنت میں وہ چیزیں پیدا فرمائی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا۔(1)
اور ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ(پ۱۶،الکھف:۱۰۹)
ترجمۂ کنزالایمان:ضرورسمندرختم ہوجائےگااور میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔
بعض مفسریْنِ کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامفرماتےہیں:”آیتِ مبارکہ میں مذکورکلمات (باتوں) سے مراد وہ ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّجنتیوں سےاَزراہِ لطف وکرم فرمائے گا۔“
پس جس کی شان ایسی ہو اس کے لاکھویں حصے تک بھی کہاں پہنچا جا سکتا ہے اور ہم ہیں بھی انسان، بھلا مخلوق اس کے علم کو گھیر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں!بلکہ ہِمّتیں جواب دے چکیں اور عقلیں اسے سمجھنے سے قاصر ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ ہونا بھی ایسا ہی چاہیے اور یہ عظیم فضل کےتقاضےاورقدیم جودوکرم کےمطابق زبردست علم والےکی عطاہے۔سنو!
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب بدء الخلق،باب ما جاء فی صفة الجنة وانها مخلوقة،۲/ ۳۹۱،حدیث:۳۲۴۴