کرے اور چاہے تودسترخوان آجائے ۔
)19(…دربارالٰہی میں اسے وجاہت وسرداری ملتی ہے پس مخلوق اس کی اطاعت وعبادت کو بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ بناتی ہے اور اس کی برکت ووجاہت کے طفیل اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اپنی حاجتیں مانگتی ہے۔
)20(…اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کی دعاقبول فرماتا ہے۔ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے کچھ بھی مانگتاہے تو وہ اُسے عطا فرماتا ہے، کسی کی سفارش کرتا ہے توقبول کی جاتی ہے اور اگروہاللہ عَزَّ وَجَلَّپر کسی چیز کی قسم کھا لے تو ربّ تعالیٰ اسے پورا فرما دیتا ہے(1)حتّٰی کہ ان میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر پہاڑ کو اشارہ کریں تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے پس انہیں زبان سے سوال کرنے یا ہاتھ سے اشارہ کرنے کی حاجت نہیں پڑتی بس یہاں دل میں کسی شے کاخیال آیا وہاں وہ شے حاضر ہوگئی۔ یہ ہیں20 بزرگیاں جوفرمانبردار بندے کو دنیا میں عطا ہوتی ہیں۔
آخرت کی 20بزرگیاں:
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فرماں بردار بندے کوآخرت میں جن بزرگیوں اور کرامتوں سے نوازتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
)21(…اللہ عَزَّ وَجَلَّاس پر موت کی سختیاں آسان فرمادیتاہے،وہ سختیاں جن سے حضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے دل بھی ڈرگئے یہاں تک کہ انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مُفَسِّر شہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد7،صفحہ58 پر فرماتے ہیں: اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ وہ بندہ اگر اللہتعالیٰ کو قسم دے کر کوئی چیز مانگے کہ خدایا تجھے قسم ہے اپنی عزت و جلال کی یہ کردے تو رب تعالیٰ ضرور کردے یہ ہے بندہ کی ضد اپنے رب پر۔دوسرے یہ کہ اگر وہ بندہ خدا کے کام پر قسم کھا کر لوگوں کو خبر دے دے تو خدا اس کی قسم پوری کردے مثلًا وہ کہہ دے کہ خدا کی قسم تیرے بیٹا ہوگا یاربّ کی قسم آجبارش ہوگی تو ربّ تعالیٰ ان کی زبان سچی کرنے کے لیے یہ کردے۔