)11(…اُسےدل کےنورسےنوازاجاتاہےجس کےذریعےوہ علوم واسراراورایسی حکمتوں تک پہنچ جاتا ہے جن کا تھوڑا سا حصہ بھی عمر بھر کی محنت ومَشَقَّت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔
)12(…شرحِ صدرعطاہوتاہے،پھردنیاکےمصائب وآلام اورلوگوں کی مکاریوں اور عیاریوں سے اس کا سینہ تنگ نہیں ہوتا۔
)13(…لوگوں کے دلوں میں اس کی ہیبت بٹھادی جاتی ہے توپھرہرنیک وبد اس کا احترام کرتا ہے اور ہر فرعون اور ظالم وجابر اس سے ڈرتا ہے۔
)14(…اللہ عَزَّ وَجَلَّلوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے، تم دیکھو گے کہ دل اس سے فطری طور پر محبت کرتے ہیں اوربے اختیار اس کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں ۔
)15(…اُسے ہرشے میں برکت عطا ہوتی ہے کہ اس کی گفتگو،جان،فعل،لباس،مکان میں برکت رکھ دی جاتی ہے حتّٰی کہ اُس کے پاؤں کے نیچے آنے والی مٹی ،وہ جگہ جہاں وہ ایک دن ہی بیٹھا ہو اور وہ انسان جس نے اُسےدیکھا یا ایک گھڑی اُس کی صحبت اختیار کی ہواُسے بھی بابرکت بنا دیا جاتا ہے۔
)16(…بحروبر یعنی خشک وترزمین اس کے لئے مُسَخَّر کردی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ چاہےتوہوامیں اُڑے، چاہے تو پانی پر چلے اور چاہے توروئے زمین کو ایک گھڑی سے بھی کم میں طے کر لے۔
)17(…اللہ عَزَّ وَجَلَّدرندوں،جنگلی جانوروں اورشیر وغیرہ کو اس کے زیرنگیں کردیتا ہے تو جنگلی جانور اس کی بات مانتےاور سانپ بچھواس کے قدموں میں لوٹتے ہیں ۔
)18(…زمین کی کنجیاں اسے عطا کردی جاتی ہیں، وہ جہاں چاہے ہاتھ مار کر خزانہ حاصل کرلے،ضرورت ہو تو زمین پر پاؤں مار کر پانی کے چشمے جاری کردے اورجہاں بھی پڑاؤ