ہے، پھر اوّلین وآخرین کا معبود ایسا کرے تو اس کا عالَم کیا ہو گا!۔
)3(…اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے محبت فرماتا ہے۔ اگر محلے کا رئیس یا شہر کا حاکم تجھ سےمحبت کرے تَو تُو اسے فخر سمجھے گا اور نازک مقامات پر اس کا فائدہ اٹھائے گاتو پھرربُّ العٰلَمِیْن جَلَّ جَلَالُہٗکی محبت کا عالم کیسا ہو گا!۔
)4(…اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے اُمور کو اپنے ذِمَّۂ کرم پر لے کر ان کی تدبیر فرماتا ہے۔
)5(…اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے رزق کا کفیل ہو جاتا ہے اور محنت ومَشَقَّت کے بغیر اس تک رزق پہنچتا ہے۔
)6(…اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کامددگارہوتاہے،اس کےہردشمن اوربُراچاہنےوالےکواس سے دورفرماتا ہے۔
)7(…اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کااَنِیْس ہوجاتاہےپھروہ کسی حال میں وحشت محسوس کرتاہے نہ ہی اُسے کسی تغیُّر وتبدُّل کا خوف رہتا ہے۔
)8(…نفس کو عزت دی جاتی ہے۔ پھر اسے دنیا اور دنیا والوں کی خدمت کی ذلت نہیں پہنچتی بلکہ وہ اس بات پر بھی راضی نہیں ہوتا کہ دنیا کے بادشاہ اس کی خدمت کریں۔
)9(…اُسے بلند ہمتی عطا کی جاتی ہے،پھر وہ دنیا اور اہل دنیا کی آلودگیوں سے بلند ہو جاتا ہے،دنیا کے تماشوں اور خرافات کی طرف توجہ نہیں کرتا اور بچوں اور عورتوں کے کھیل کود سے منہ موڑ کر عقلمند مردوں میں شامل ہوجاتا ہے۔
)10(…اُسے دل کی تونگری عطا ہوتی ہے۔ یوں وہ دنیا کے ہرغنی سے بے پروا ہو جاتا ہے، ہمیشہ خوش دل اور کُشادہ سینہ رہتا ہے اور کسی تنگی سے گھبراتا ہے نہ کسی چیز کے نہ ہونے کی فکر کرتا ہے۔