Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
26 - 274
ہےیوں کہ اپنے دل کو اس بات پر جما لینا اور پختہ ارادہ کر لینا  کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم کی خاطراوراس کی ناراضی  اور دردناک عذاب سے بچنے کے لئے گناہ کی طرف نہیں لوٹےگا اوریہ گناہوں سےبچناکسی دُنیاوی غرض،لوگوں کےڈر،تعریف کی خواہش،ناموری وشہرت، جسمانی کمزوری ،   محتاجی وغربت یا پھر  کسی اور رُکاوَٹ کی وجہ سے نہ ہو۔
توبہ پر اُبھارنے والے اسباب:
	توبہ پر اُبھارنے والے اسباب میں سے یہ بھی ہے گناہوں کی قباحت کو یاد کرو اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کی ناراضی وغضب کو یاد کروکہ تم اسے برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔یوں ہی اپنی کمزوری اور عذرخواہی کی کمی کو یاد کروکیونکہ جو شخص سورج کی تیز دھوپ،کوتوال کے تھپڑ اور چیونٹی کے ڈنک برداشت نہیں کرسکتا وہ دوزخ کی شدید گرمی، جہنم کےفرشتوں کی ماراوراونٹ کی گردنوں کےبرابرموٹےسانپوں اورخچرجیسےاُن بچھوؤں کاڈسناکیونکربرداشت کرسکےگاجن کوغضب وتباہی کے گھردوزخ میں آگ سےبنایاگیا ہے۔ ہم باربارخداکےغَضَب اورعذاب سےپناہ مانگتےہیں۔اگرتم ان دہشت ناک اُمورکویاد رکھو گےاورروزانہ دن یارات میں کسی بھی وقت ان کی یادتازہ کرتےرہوگےتوضرورتمہیں گناہوں سےخالِص توبہ نصیب ہوجائےگی۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّاپنے فضل سےسب کوتوبہ کی توفیق دے۔(اٰمین)
توبہ کا رُکنِ اعظم:
	 گناہ ہوجانےپرنادم وپشیمان ہوجاناتوبہ کاسب سےبڑارُکن ہے،اسی لئےحضورسرورِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاسےتوبہ کانام دیتےہوئےارشادفرمایا: اَلنَّدَمُ تَوْبَۃٌ یعنی گناہوں پرندامت ہونا توبہ ہے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب ذکر التوبة،۴/۴۹۲،حدیث:۴۲۵۲