جو بندے کے دل پر پڑتی ہے تو وہ ایک ہی نظر میں دونوں جہاں کا معاملہ حقیقت میں دیکھ لیتا ہے۔بعض اوقات یہی بندہ ایک سال تک اس مقام کی طلب میں رہتا ہے مگر اسے حاصل نہیں کرپاتا بلکہ اس کا اثر بھی نظر نہیں آتا،ایسا اس کی طلب وکوشش میں خطاو کوتاہی اور اس راستے سے عدمِ واقفیت کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ کوئی اس مقام کو50دنوں میں، کوئی10 میں، کوئی چند گھڑیوں میں اور کوئی ایک لمحہ میں پا لیتاہےاور یہ ربّعَزَّ وَجَلَّکی عنایت ہے، وہی ہدایت کا مالک ہے جبکہ بندے کو کوشش کرنے کا حکم ہےلہٰذااس پر حکم کی تعمیل ضروری ہےحالانکہ معاملہ تقسیم اورمقدرہوچکاہےاورربّعَزَّ وَجَلَّعدل کرنےوالاحاکم ہے وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے حکم دے۔
معاملہ بہت شدید ہے اور بندے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ بندگی میں خوب کوشش کرے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھے اور اس کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرے،اس امید پر کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر رحم فرمائے گا۔
فرمانبردار کی 40 بزرگیوں کا بیان
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنےفرمانبرداربندےکوجوکرامتیں اورعزتیں عطافرماتاہےوہ40ہیں جن میں سے 20دنیا میں دی جاتی ہیں اور 20 آخرت میں عطا ہوتی ہیں۔
دنیا کی 20بزرگیاں:
(1)…اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا تذکرہ اورتعریف فرماتا ہے۔کتنا معزز ہے وہ بندہ جس کا تذکرہ وتعریف تمام جہانوں کا پروردگار عَزَّ وَجَلَّ فرمائے۔
(2)…اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے شکر کی توفیق عطا فرماتا اور اسے عزت وعظمت دیتا ہے۔ اگر تیرےجیسی کوئی کمزورمخلوق تیراشکریہ اداکرےاورتجھےعزت دےتَوتُواسےبزرگی سمجھتا