اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ ایک کو توفیق دی گئی تودوسرے کو محروم کیوں رکھا گیا حالانکہ بندہ ہونے میں تودونوں برابر ہیں کیونکہ اس وقت جلال کے پردوں سے ایک فرمانے والا فرماتاہے:ادب ملحوظ رکھواورربوبیت کےرازاوربندگی کی حقیقت کوپہچانوکیونکہ ربّ عَزَّ وَجَلَّ جوبھی کرےاس سےپوچھانہیں جائےگااوربندوں سےپوچھاجائےگا۔
پل صراط کی مثل:
دنیا میں اس راہِ سلوک کی مثال آخرت میں پُل صراط کی گھاٹی اور اس کی مسافت کو عبور کرنے کی طرح ہے، یونہی لوگوں کا حال بھی پُل صراط پار کرنے والوں کی طرح ہے کہ کوئی تو بجلی کی سی تیزی سے گزر جائے گا، کوئی تیز ہوا کے جھونکے کی طرح پار ہو جائے گا، کوئی تیز رفتار گھوڑے کی سی فرلانگ بھرے گا،کوئی اُڑ کر جائے گا، کوئی پیدل چلے گا، کوئی گھسٹتا ہوا پارکرے گا حتّٰی کہ کوئلہ ہوجائے گا اور کوئی جہنم کی آواز سنے گا اور کسی کو آنکڑوں میں گرفتار کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔پس دنیا میں راہ سلوک کااپنے مسافروں کے ساتھ یہی حال ہے۔
یہ دوراستےہیں،ایک دنیاکااوردوسراآخرت کا،آخرت کاراستہ نُفُوس(یعنی انسانی جانوں) کےلئےہےجس کی ہولناکیوں کوآنکھ والےدیکھیں گےاوردنیا کاراستہ دلوں کے لئےجس کی ہولناکیاں صرف عقل وبصیرت والے ہی دیکھتے ہیں اور آخرت میں راستہ طے کرنے والوں کے احوال اس لئے مختلف ہوں گے کیونکہ دنیا میں ان کے احوال مختلف تھے۔
عارفین کا روحانی راستہ:
پھربلاشبہ یہ راستہ یعنی عارفین کاراستہ روحانی ہےجس پردل چلتےہیں اورعقائد وبصیرت کے مطابق خیالات وافکار اِسے طے کرتے ہیں جبکہ اس کی اصل آسمانی نور اور نظَرِ الٰہی ہے