Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
257 - 274
لَا ضَیۡرَ۫ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿ۚ۵۰﴾ (پ۱۹،الشعرآء:۵۰)
ترجمۂ کنزالایمان:کچھ نقصان نہیں ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔
تیز رفتار روحانی ترقی:
	ہمیں بتایا گیا ہے کہ حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم دنیا میں ایک بادشاہ تھے، انہوں نے بادشاہت کو ٹھوکر مار کر اس راہِ ہدایت کا ارادہ کیا اور اتنی قلیل مدت میں اسے طے کر لیا جتنی دیر میں وہ ’’بلخ‘‘سے’’مرو‘‘پہنچتےتھے حتّٰی کہ وہ اس مقام تک جا پہنچےکہ ایک شخص پُل کے اوپر سے گہرے پانی میں گرا تو آپ نے فرمایا: ٹھہر جا۔ چنانچہ وہ وہیں ہوا میں رُک گیا اور بچ گیا۔
	حضرت سیِّدَتُنارابعہ بصریہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَاایک عمررسیدہ کنیزتھیں،انہیں بصرہ کے بازار میں گھمایا جاتا تھا مگرعُمْرزیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی خریدنے میں دلچسپی  نہیں لیتا تھا۔چنانچہ ایک تاجرکوان پررحم آیااوراس نے100درہم میں خریدکرانہیں آزادکردیا اور حضرت سیِّدَتُنارابعہ بصریہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَانے اس راہِ آخرت کو اختیار کر لیا، ابھی ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ ان کے مرتبے کی بلندی کی وجہ سے بصرہ کے علماو مشائخ اورقراء واولیاان  کی زیارت کو آنے لگے۔
	بہر حال عنایت اور فضْلِ خداوندی جس کے شامل حال نہ ہو اسے اس کے نفس کے حوالےکر دیا جاتا ہے اور بسا اوقات وہ کسی ایک ہی گھاٹی کی کسی وادی میں 70 سال پڑا رہتا ہے اوراسےپارنہیں کرپاتااورکتنی ہی بارچیختےچلاتےہوئےکہتاہے:یہ راستہ کتنا تاریک اور مشکل ہے، یہ معاملہ کتنا تنگ اور دشوار ہے جبکہ  حقیقت میں معاملہ تو صرف ایک ہی اصل کی طرف لوٹتاہےاوروہ عادل وحاکم اورزبردست جاننےوالےربّ تعالیٰ کی مقررکردہ ہے۔