رَبُّـنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنۡ نَّدْعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا ﴿۱۴﴾(پ۱۵،الکھف:۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان:ہمارا رب وہ ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی معبود کو نہ پوجیں گے ایسا ہو تو ہم نے ضرور حد سے گزری ہوئی بات کہی۔
پس اتنا کہنے کے بعد انہیں معرفت نصیب ہو گئی اور انہوں نے اس راہ کے حقائق کو بھی دیکھ لیا اور اس راہ کو پار کر کے اپنا معاملہ سپردِ خدا کرنے والے، توکل کرنے والے اور سیدھی راہ پر قائم رہنے والے بن گئے، کیونکہ انہوں نے کہا:
فَاۡ وٗۤا اِلَی الْکَہۡفِ یَنۡشُرْ لَکُمْ رَبُّکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ و یُہَیِّئْ لَکُمۡ مِّنْ اَمْرِکُمۡ مِّرْفَقًا ﴿۱۶﴾(پ۱۵،الکھف:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:تو غار میں پناہ لو تمہارا رب تمہارےلئےاپنی رحمت پھیلادےگااور تمہارے کام میں آسانی کے سامان بنا دے گا۔
الغرض یہ مقامِ معرفت اصحاب کہف کو ایک ہی لمحے میں نصیب ہو گیا۔
کیا تمہیں فرعون کے جادوگروں کا قصہ یاد نہیں کہ وہ پل بھر کی مدت میں مقامِ معرفت پر فائزہو گئے، وہ اس طرح کہ جب انہوں نے حضرت سیِّدُناموسٰی کَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَامکا معجزہ دیکھا تو کہا:
اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۴۷﴾ رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ﴿۴۸﴾(پ۱۹،الشعرآء:۴۷، ۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم ایمان لائےاس پر جو سارے جہان کا رب ہے جو موسیٰ اور ہارون کارب ہے۔
چنانچہ جب انہوں نے راستہ دیکھ لیا تو ایک لمحہ بلکہ اس سے بھی کم وقت میں اسے طے کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پہچاننے والے، اس کی قضا پر راضی، اس کی آزمائشوں پر صابر، اس کی نعمتوں پر شاکر اور اس کی ملاقات کے مشتاق بن گئےاور پکاراٹھے: