Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
255 - 274
وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ(پ۲۱،العنکبوت:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جنھوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انھیں اپنے راستے دکھا دیں گے۔
	جب بندہ کمزورہونےکےباوجودمجاہدےپرڈٹ جائےتوپھرقدرت والےغنی وکریم رب عَزَّ  وَجَلَّ کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟
منتخب بندوں پر آسانی: 
	جب اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے کسی بندے کو چُن لیتا ہے تو اس پر ان گھاٹیوں کی طوالت کم ہو جاتی اور تکالیف آسان ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ انہیں عبور کرنے کے بعد کہتا ہے:”یہ راہ کتنی قریب، کتنی نرم اور کتنی آسان ومختصر ہے ۔“کسی شاعر نے کہاہے:
عَلَمُ الْمَحَجَّۃِ وَاضِحٌ لِمُرِیْدِہٖ		وَاَرَی الْقُلُوْبَ عَنِ الْمَحَجَّۃِ فِیْ عَمٰی
وَلَقَدْ عَجِبْتُ لِھَالِکٍ وَّ نَجَاتُہٗ		مَوْجُوْدَۃٌ  وَّ  لَقَدْ  عَجِبْتُ  لِمَنْ  نَجَا
	ترجمہ:سیدھی راہ کی نشانی اپنے  طلبگار کے لئے واضح ہے اور میں دلوں کو دیکھ رہا ہوں کہ  سیدھی راہ سے اندھے ہیں۔ میں ہلاک ہونے والے پر تعجب کرتا ہوں حالانکہ اس کی نجات موجود ہے اور مجھے نجات پانے والے پر بھی تعجب ہے۔ 
	یہاں تک کہ بعض ایسے لوگ ہیں جو اِن گھاٹیوں کو 70سال میں طے کرتے ہیں، بعض 20 سال میں، بعض 10سال میں،بعض ایک سال میں،بعض ایک مہینہ میں بلکہ بعض تو ایک ساعت میں طے کر لیتے ہیں یہاں تک کہ بعض توربّ تعالیٰ کی توفیْقِ خاص اور عنایت سے ایک لمحہ میں اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔
	کیا تم نے اصحابِ کہف کا واقعہ ملاحظہ نہیں کیا کہ ایک قدم میں کس مقام پرپہنچ گئے، جب انہوں نے اپنے بادشاہ دقیانوس کے بدلتے تیور دیکھے تو کہا: