Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
254 - 274
کرو بلکہ ربّ تعالیٰ تمہیں وہ نعمتیں بھی عطا فرمائے گاجو تمہارے پاس نہیں ہیں اور تم ان کی اچھی طرح مانگ اور تمنا بھی نہیں کر سکتے اب ان کے فوت ہونے کا خوف بھی نہ کرو، اس وقت تم ان عارفین میں سے ہو جاؤ گے جو دین کو جاننے والے، توبہ کرنے والے، پاک، دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے، عبادت کے لئے تنہائی اختیار کرنے والے، شیطان پر غصہ کرنے والے،دل اور تمام اعضاءسےتقوٰی کا حق ادا کرنے والے، چھوٹی امیدوں والے، خیر خواہی کرنے والے،تَضَرُّع اورعاجزی والے، توکل والے، معاملات کو سپردِ خدا کرنے والے،قضا پر راضی رہنے والے، صبر والے، خوفِ خدا والے، رحمتِ الٰہی کے امیدوار، اخلاص والے، احساناتِ الٰہیہ کو یاد کرنے والےاور تمام جہانوں کے پالنہار تمہارے مالک ومولیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والےہیں۔ اس کے بعد تم ان لوگوں میں سے ہو جاؤ گے جو سیدھی راہ پر قائم رہنے والے، معزز اور صِدِّیْقِیْن ہیں۔ اس مقام پر پہنچنے کی طاقت بہت ہی کم لوگوں میں ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
قَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ ﴿۱۳﴾(پ۲۲،سبا:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور میرے بندوں میں کم ہیں شکر والے۔
	اور ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوۡنَ﴿۲۴۳﴾(پ۲،البقرة:۲۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔
	لیکن جس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے آسان فرما دے اس کےلئے آسان ہے، پس بندے کے ذمے کوشش کرنا ہے اور ہدایت عطا فرمانا رب عَزَّ  وَجَلَّکے ذمَّۂ کرم پرہے۔ ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: