بعد دوری اور وصال کے بعد فراق دشوار ترین معاملہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ عزت وبزرگی والا اور رحمت ومہربانی فرمانے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرشِ عظیم کا رب ہے۔
پانچ بنیادی مصائب:
منقول ہے کہ حکماء نے غوروفکر کیا تو تمام مصائب وآلام کو پانچ چیزوں میں پایا:
(۱)حالت سفرمیں بیماری(۲)…امیری کےبعدغریبی(۳)جوانی میں موت (۴)بینائی کے بعد اندھا ہونا اور (۵)معرفت کے بعد اس کا چھن جانا۔
کسی شاعر نے اس سے بھی اچھی بات کہی:
لِکُلِّ شَیْءٍ اِذَا فَارَقْتَہٗ عِوَضٌ وَ لَیْسَ لِلّٰہِ اِنْ فَارَقْتَ مِنْ عِوَضِ
ترجمہ:تجھےہر چیز کو چھوڑنے کا کوئی نہ کوئی عوض مل جائے گالیکن اگر تم نے باری تعالیٰ کو چھوڑاتو اس کا کوئی عوض نہیں۔
ایک اور شاعر نے کہا:
اِذَا اَبْقَتِ الدُّنْیَا عَلَی الْمَرْءِ دِیْنَہٗ فَمَا فَاتَہٗ مِنْھَا فَلَیْسَ بِضَائِرِ
ترجمہ:اگر دنیا کسی شخص کا دین چھوڑ دے تو پھر جتنی دنیا بھی ہاتھ سے نکل جائے کوئی نقصان نہیں۔
دوقیمتی خزانے:
لہٰذاخود پر ہونے والی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہر نعمت اور اس کی مدد کا شکر ادا کر وجو اس نے تمہاری ان گھاٹیوں کے عبور کرنے میں فرمائی اور تمہیں ثابت قدم رکھا اور تمہیں چاہت وتمنا سے بڑھ کر عطا فرمایا۔اگرتم نے ایسا کر لیا تو پھر یقیناً تم نے اس پُر خطر گھاٹی کو پیچھے چھوڑدیااورکامیابی میں تمہیں دوقیمتی اورمعززخزانےملےجوکہ استقامت اورزیادت ہیں۔ اب جو نعمتیں اس نے تمہیں عطا فرمائی ہیں وہ ہمیشہ رہیں گی ان کے زوال کا خوف نہ