Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
252 - 274
	اورحضرت سیِّدُنایوسف عَلَیْہِ السَّلَامنے دعا کی:(یہ تعلیم امت کے لیے ہے ورنہ انبیا کو اپنے خاتمہ کا یقین ہوتا ہے۔)
تَوَفَّنِیۡ مُسْلِمًا(پ۱۳،یوسف:۱۰۱)		ترجمۂ کنز الایمان:مجھے مسلمان اٹھا۔
	حضرت سیِّدُناسفیان ثوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیہمیشہ یہ دعاکرتےتھے:اےاللہ  عَزَّ وَجَلَّ! سلامتی عطا فرما  سلامتی عطا فرما۔ایسا لگتا گویا آپ کسی کشتی میں ہیں جس کے ڈوبنے کا خوف ہے۔
تنکے سے بھی حقیر:
	حضرت سیِّدُنامحمد بن یوسف بن اسباطرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو پوری رات روتے دیکھا تو عرض کی: آپ گناہوں پراس قدرروتےہیں؟انہوں نےایک تنکااٹھایااورفرمایا:گناہ تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کےنزدیک اس تنکے سے بھی حقیر ہیں، میں تو اس بات پر رو رہا ہوں کہ کہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ سے اسلام نہ چھین لے۔اَلْعِیَاذُ بِاللہیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ۔
	ایک عارف بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتےہیں کہ کسی نبیعَلَیْہِ السَّلَامنےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بلعم بن باعورا کے بارے میں پوچھا کہ وہ اتنی نشانیوں اور کرامات کے بعد کیسے مردود ہو گیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: جو کچھ میں نے اُسے دیا تھا اس پر اس نے ایک دن بھی میرا شکر ادا نہیں کیا اگر وہ ایک مرتبہ بھی میرا شکر اداکر لیتا تو میں اس سے اپنی عطائیں نہ چھینتا۔
	اے انسان! جاگ جااورشکر کی حفاظت کر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عطا کردہ دینی احسانات پر اس کی حمد کر ، ان میں سب سے بڑا احسان اسلام اور معرفت ہے اور سب سے چھوٹا احسان تسبیح کرنے کی  اور بے فائدہ بات سے بچنے کی توفیق ہے۔اُمید ہے وہ تجھ پر اپنی نعمتیں مکمل فرما دے اور زوال کی کڑواہٹ میں تجھے مبتلا نہ فرمائے، کیونکہ عزت کے بعد ذلت،قرب کے