ارشاد فرمایا:
سَنَسْتَدْرِجُہُمۡ مِّنْ حَیۡثُ لَایَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۸۲﴾ۚ(پ۹،الاعراف:۱۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان:جلدہم انھیں آہستہ آہستہ عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انھیں خبر نہ ہو گی۔
مطلب یہ کہ ہم ان پر نعمتیں مکمل کرتے جاتے ہیں اورانہیں شکر بُھلائے رکھتے ہیں۔
ایسا ہی ایک شاعر نے کہا:
اَحْسَنْتَ ظَنَّکَ بِالْاَیَّامِ اِذْ حَسُنَتْ وَ لَمْ تَخَفْ سُوْ ءَ مَا یَاْتِیْ بِہِ الْقَدَرُ
وَسَالَمَتْکَ اللَّیَالِیْ فَاغْتَرَرْتَ بِھَا وَ عِنْدَ صَفْوِ اللَّیَالِیْ یُحْدَثُ الْکَدَرُ
ترجمہ:دِنوں کےاچھےہونےپرتوانہیں اچھاسمجھتاہےاوراُس بُرائی سےنہیں ڈرتاجو تقدیرلانے والی ہے اورتواپنی راتوں کی سلامتی سےدھوکاکھاجاتاہےحالانکہ بےغبارراتوں میں پریشانی ظاہرہوتی ہے۔
خوب جان لو جیسے جیسے تم بارگاہِ الٰہی سے قریب ہوتے جاؤ گے معاملہ اور بھی زیادہ سخت، خوفناک، پیچیدہ اور مشکل ہوتا جائے گا اور تم پر خطرہ بھی بہت بڑا ہو گا، کیونکہ ہر چیز بلندی پرپہنچنے کے بعد جب واپس پلٹتی ہے تو بڑی شدت کے ساتھ پلٹتی ہے پس اس وقت بے خوف ہونے، شکر سے غفلت برتنے اور اپنے حال کی حفاظت کے لئے گریہ وزاری چھوڑ دینے کا کوئی موقع نہیں۔
حفاظتِ ایمان کی فکر:
حضرت سیِّدُناابراہیم بن ادہمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرمایاکرتےتھےکہ تم کیسےبے خوف ہو سکتے ہو جبکہ حضرت سیِّدُناابراہیم خَلِیْلُاللہعَلَیْہِ السَّلَامنے دعا کی :
وَّاجْنُبْنِیۡ وَبَنِیَّ اَنۡ نَّعْبُدَ الۡاَصْنَامَ ﴿ؕ۳۵﴾ (پ۱۳،ابراھیم:۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا۔