کے جس مقام پر اس وقت تم ہو اس سے دھوکا مت کھاناکیونکہ باوجودان نعمتوں کے یہ مقام بے خوفی کا ہے نہ غفلت کا کیونکہ تمام امور انجام سے جُڑے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُناسفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرمایا کرتے تھے: جو اپنے دین پر بے خوف ہوگا اُس سے دین چھین لیاجائے گا۔
حضرت سیِّدُنا ابوبکر وراق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقفرمایا کرتے تھے:جب تم کافروں کا حال اور ان کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کو سنوتو اپنے متعلق بے خوف مت ہو جانا کیونکہ معاملہ بہت خطرناک ہے اور تم نہیں جانتے کہ انجام کیا ہو گا اورتمہارے متعلق غیب میں کیا فیصلہ ہو چکا ہے،لہٰذااپنے اوقات کی صفائی پر مغرور مت ہو کیونکہ ان کے نیچے گہری آفتیں موجود ہیں۔
ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا:اےعصمتوں سےدھوکاکھانےوالو!ان عصمتوں کے نیچے قسم قسم کی آفات ہیں،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ابلیس کوکئی طرح کی عصمت سے نوازا لیکن حقیقت میں وہ اس کی بارگاہ سے مردود تھا۔ یونہی ربّ تعالیٰ نے بلعم بن باعورا کو کئی قسم کی ولایت عطا فرمائی مگردر حقیقت وہ اس کے دشمنوں میں سے تھا۔
دھوکے میں نہ رہنا:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمارشادفرماتے ہیں :بہت سے لوگ خود پر احسان کی وجہ سے دھوکے میں ہیں،بہت سے لوگ اپنی اچھی مقبولیت کے باعث فتنہ میں ہیں اور بہت سے لوگ پردہ پوشی کے سبب فریب میں ہیں۔
حضرت سیِّدُناذُوالنُّون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے پوچھاگیا:بندہ سب سے زیادہ کس شےسےدھوکاکھاتاہے؟ارشادفرمایا:مہربانیوں اورنوازشات سے۔جیساکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے