فرض تجھ پر قرض ہے:
اے بندے!تجھ پر توبہ لازم ہے تاکہ تیری عبادت قبول ہو،بے شک قرض خواہ تحفہ قبول نہیں کرتا (بلکہ قرض کا مطالبہ کرتا ہے)یہی حال توبہ کا ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنا اورربّ عَزَّ وَجَلَّکوراضی کرنافرض ہے جبکہ عام عبادت جس کاتو قصد کرتا ہے وہ نفل ہے۔تو پھرتجھ سےنفل کیسےقبول کئےجا ئیں گےحالانکہ فرض تجھ پرقرض ہیں؟(1)یونہی تیرا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےلئےحلال ومباح کام کوچھوڑدینااورحرام وممنوع کاموں میں پڑےرہنےکا معاملہ ہے اورتواس سےمناجات ودعائیں اوراس کی حمدوثناکیسےکرسکتاہےحالانکہ وہ تجھ پرناراض ہے؟ پس گناہ پرڈٹے ہوئےگنہگاروں کایہ ظاہرحال ہے۔ہماللہ عَزَّ وَجَلَّہی سےمددچاہتے ہیں۔
توبہ کا مطلب :
توبہ بھی دل کےکاموں میں سےایک ہےجس کامعنیٰ”دل کوگناہوں سےپاک کرنا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…حضورپُر نورسیِّدُ ناغوث اعظم مولائےاکرم حضرت شیخمُحْیُ الْمِلّۃ وَالدِّیْن ابومحمدعبد القادر جیلانیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاپنی کتاب مستطاب فتوحُ الغیب شریف میں کیا کیا جگر شگاف مثالیں ایسےشخص کےلیےارشاد فرمائی ہیں جوفرض چھوڑکرنفل بجالائے۔فرماتےہیں:اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ اپنی خدمت کےلیےبلائے،یہ وہاں توحاضرنہ ہوااوراس کےغلام کی خدمتگاری میں موجودرہے۔پھرحضرت امیرالمؤمنین مَوْلَی الْمُسْلِمِیْن سیِّدُنامولیٰ علی مرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗسے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشادفرماتے ہیں: ایسےشخص کاحال اس عورت کی طرح ہےجسےحمل رہاجب بچّہ ہونےکےدن قریب آئے اسقاط ہوگیا، اب وہ نہ حا ملہ ہے نہ بچّہ والی۔ یعنی جب پورے دِنوں پر اگر اسقاط ہو تو محنت تو پوری اٹھائی اور نتیجہ خاک نہیں کہ اگر بچہ ہوتا تو ثمرہ خود موجود تھا حمل باقی رہتا تو آگے امید لگی تھی ، اب نہ حمل نہ بچّہ، نہ اُمید نہ ثمرہ اور تکلیف وہی جھیلی جو بچّہ والی کو ہوتی۔ ایسے ہی اس نفل خیرات دینےوالےکےپاس روپیہ تواٹھامگرجبکہ فرض چھوڑایہ نفل بھی قبول نہ ہواتوخرچ کاخرچ ہوااورحاصل کچھ نہیں۔اسی کتاب مبارک میں حضورمولیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایاہےکہ:فَاِنِ اشْتَغَلَ بِالسُّنَنِ وَالنَّوَافِلِ قَبْلَ الْفَرَائِضِ لَمْ یُقْبَلْ مِنْہُ وَاُھِیْنَیعنی فرض چھوڑ کرسنّت ونفل میں مشغول ہوگا یہ قبول نہ ہوں گے اور خوار کیا جائے گا۔(فتاوی رضویہ، ۱۰/۱۷۹)