اس سےبےپرواکردوں گااورمیں اپنےدوستوں کےساتھ ایساہی کرتاہوں،میں انہیں دنیاوی نعمتوں سے ایسے ہی دور رکھتا ہوں جیسے مہربان چرواہا اپنے اونٹوں کو خارش زدہ اونٹوں سے دوررکھتاہے،میں انہیں دنیاکےعیش وآرام سےاس لئےدورنہیں رکھتاکہ ان کی میرےنزیک کوئی اہمیت نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ میری جانب سےعزت وانعام کوپورےطورپرحاصل کریں۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَوْلَاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلْنَا لِمَنۡ یَّکْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوۡتِہِمْ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیۡہَا یَظْہَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾ وَ لِبُیُوۡتِہِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیۡہَا یَتَّکِــُٔوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾ وَ زُخْرُفًا ؕ وَ اِنۡ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ؕ وَالْاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۳۵﴾٪(پ۲۵،الزخرف:۳۳ تا۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پرہوجائیں توہم ضروررحمٰن کے منکروں کےلیےچاندی کی چھتیں اورسیڑھیاں بناتےجن پرچڑھتے اور ان کے گھروں کے لیےچاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگاتے اور طرح طرح کی آرائش اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیاہی کااسباب ہےاورآخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
حق ادا نہ ہوسکے:
اے بندے! اگر تم کچھ بصیرت رکھتے ہو تو دونوں کے مابین فرق پر غور کرو اور کہو کہ
”تمام تعریفیں اس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہے جس نے اپنے اولیا واصفیاوالااحسان مجھ پر بھی فرمایا اور اپنے دشمنوں والے فتنے کو مجھ سے دور رکھا۔“اور یہ اس لئے کہ ہم کثیر شکر، بڑی حمد،بڑے احسان اور عظیم نعمت کے ساتھ خاص ہو جائیں جو کہ اسلام ہے پس یہی پہلی اور آخری نعمت ہےجس کے شکر میں تم اپنےدن رات ایک کردو اور اگر تم اس کی قدر وقیمت