نےسَیِّدُالْمُرْسَلِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےکیافرمایاہے؟وہ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَقَدْ اٰتَیۡنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیۡ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیۡہِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾(پ۱۴،الحجر:۸۷،۸۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن اپنی آنکھ اٹھاکراس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے کچھ جوڑوں کو برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنے رحمت کے پَروں میں لے لو۔
نیکوں سے دنیا کی دوری:
یہ آیتِ مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ جسے قرآن پاک عطاکیا جائے اسے دنیا کی طرف راغب ہونا تو در کنار دنیا کی طرف توجہ بھی نہیں کرنی چاہیےبلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ نعمَتِ قرآن پر شکر ادا کرے کیونکہ یہ ایک بزرگی ہے اور ہدایت تو تمام بزرگیوں سے بڑی عزت و بزرگی ہے جبکہ دنیا کاسازوسامان تو ایک مصیبت ہے جس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّہر کافر، فرعون،مُلْحِد وزِنْدِیق اور جاہل وفاسق کومبتلا کرتا ہے جوکہ اُس کی ذلیل ترین مخلوق ہیں اوروہ اِس گھٹیا دنیا کو ہر نبی، صِدِّیق اور عالِم وعابدسے دور رکھتا ہے جو کہ اُس کی بہترین مخلوق ہیں اور بعض اوقات تو انہیں روٹی کا ٹکڑا اور کپڑے کا چیتھڑا بھی نصیب نہیں ہوتااوراللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں احسان جتاتا ہے کہ اس نے انہیں دنیا کی گندگی سے آلودہ نہیں فرمایا۔ چنانچہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُناموسٰی اورحضرت سیِّدُناہارونعَلَیْہِمَا السَّلَامسےفرمایا: اگر میں چاہوں تو تمہیں ایسی زینت دوں جسے دیکھ کر فرعون جان لے کہ ایسی زینت اس کی طاقت سے باہر ہے اورمیں ضرور ایسا کر سکتا ہوں مگر میں تم دونوں سے دنیادور کرکےتمہیں