یہاں تک کہ فرشتوں کے سامنے اس پر فخر فرمایا، اسے اپنی بارگاہ میں سرداری ووجاہت عطا کی، اسے مقامِ شفاعت عطا فرمایا اور اسے عزت وشرف کی وہ منزل عطا فرمائی کہ اگر وہ دعا کرے توربّ تعالیٰ قبول فرمالےاور لَبَّیْکفرمائے، وہ مانگے تو ربّ تعالیٰ اسے عطا فرما کر غنی کر دے اور اگرایک جہان کی شفاعت کرے تو ربّ تعالیٰ سب کے حق میں اس کی شفاعت قبول فرما کر اسے راضی کر دے، وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّپر کسی چیز کی قسم کھائے تو وہ اسے پوری کردے، اس کے دل میں کسی چیز کا خیال آئے تو زبان پر سوال آنے سے پہلے ہی ربّعَزَّ وَجَلَّ اسے عطا فرما دے پس جس کی یہ حالت ہو پھروہ اِس نعمت دینے والے کی قدر پہچانے نہ ہی اس نعمت کے مرتبہ کو دیکھے بلکہ انہیں چھوڑکر بے حیا وبے کارنفس کی خواہش کی طرف پھر جائےیا فانی وگھٹیا دنیا کی چمک کومرکزِنگاہ بنالے اوران عزتوں، نعمتوں،تحفوں اور احسانوں کو نہ دیکھے اور نہ ہی آخرت کے عظیم ثواب اور دائمی نعمتوں کی طرف نظر کرے تو اس سے زیادہ حقیر اور بدترین انسان بھلا اور کون ہو سکتا ہے؟اگر جانے تواس کا خطرہ کس قدر بڑا ؟ اور اگر سمجھے تو اس کا فعل کس قدر بے حیائی والا ہے؟ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّسے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے عظیم فضل اور وسیع رحمت سے ہماری اصلاح فرمائے بے شک وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
نعمتوں کی تحقیر سے بچو:
اے بندے!خودپراللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کی قدرومنزلت پہچاننے کے لئے تمہیں پوری کوشش کرنا ضروری ہے پس اگر وہ تمہیں کوئی دینی نعمت عطا فرمائے تو دنیا اور اس کے سامان کی طرف توجہ کرنے سے بچو کیونکہ اگر تم اس طرف متوجہ ہوئے تویہ اپنے رب تعالیٰ کی جانب سے ملنے والی دینی نعمت کی ایک قسم کی تحقیرہوگی،کیاتم نےنہیں سناکہ ربعَزَّ وَجَلَّ