Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
245 - 274
 غلام دروازے پر جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے کسی نوکر کو روٹی کا ٹکڑا کھاتے یا کسی کتے کو ہڈی چباتے ہوئے دیکھے تو بادشاہ کی خدمت کو چھوڑ کر اُن کو دیکھنے میں مشغول ہوجائے اور شاہی خلعت وعزت کی طرف سےتوجہ ہٹاکر روٹی کھانے والے نوکر کی طرف دوڑے اور اپنا ہاتھ پھیلا کر اس سے روٹی کا ٹکڑا مانگنے لگے یا ہڈی کے لئے کتے سے مزاحمت کرنے لگے اور اُن پر رشک کرتے ہوئے ان کی اس حالت کو بڑا سمجھنے لگے تو کیا بادشاہ جب اس آدمی کو اِس حالت میں دیکھےگاتویہ نہ کہے گاکہ اس بے وقوف اور کمینے شخص نے ہماری عزت کا حق نہ پہچانا اور ہم نے اسے جو خِلعَت عطا کی، اپنی بارگاہ میں قرب دیا،اس پراپنی خاص نظَرِ عنایت کی اور اس کے لئے دولت کے ذخیرے اور کئی قسم کی نعمتیں مہیا کیں اِس نے ان کی قدروقیمت کوسمجھا ہی نہیں، یہ تو بڑا جاہل اوربدتمیز انسان ہے، اِس سے تمام انعام واکرام چھین لو اور ہمارے دروازے سے دُورکر دو۔
	پس یہی حال اس عالِم کاہےجودنیاکی طرف مائل ہوجائےاوراس عابدکاجواپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگے حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے عبادت،نعمتوں کی پہچان،شریعت اور احکام کی معرفت سے نوازا مگر اس نے ان کی قدر وقیمت نہیں پہچانی اور اس چیز کی طرف مائل ہو تا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک  انتہائی حقیر و کمتر ہے،یہ اس کی رغبت اورحرص  رکھتا ہے اوراِس کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے عطا کردہ علم وحکمت اور عبادت وحقائق جیسی عظیم نعمتوں کے مقابلے میں اس دنیا کی محبت بڑی اور زیادہ ہوگئی ہے ۔ 
بدترین انسان:
	نیز اُس بندے کا بھی یہی معاملہ ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کئی قسم کی توفیق عطافرمائی، اُسے کئی طرح کی خدمت وعبادت سے زینت بخشی اور اکثر اوقات اس پرنظر رحمت فرمائی