کھڑا کر دے بہر صورت اس کی تمام تر لالچ اورنعمت وعزت صرف کھانے پینے میں ہی ہوتی ہے۔بس!یہ بُرا بندہ بھی ایسا ہے کہ ہماری نعمتوں، عطاؤں اور عزتوں کی ناقدری وناشکری کی تو اس کی بصیرت کند ہو گئی، ہمیں چھوڑ کر غیر کی طرف متوجہ ہونے کے سبب مقام قرب میں اس کا ادب بُرا ہو گیا، ہماری نعمتوں کو بھول کر حقیر وخسیس دنیا کی طرف متوجہ ہو گیا تو پھر ہم نے اس پر اپنی تدبیر کی نگاہ ڈالی اور اسے انصاف کے میدان میں کھڑا کر دیا۔ پھر ہم نے اس کے متعلق اپنی قدرت وطاقت سے فیصلہ فرمایا تو اس سے اپنی تمام عزتیں وخلعتیں چھین لیں اور اس کے دل سے اپنی معرفت نکال دی پس وہ ہماری دی گئی تمام نعمتوں سے خالی ہو گیا اور ایک ہانکا ہوا کتا یا دھتکارا ہوا شیطان ہو گیا۔
ہم بارباراللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی اوراس کےدردناک عذاب سےپناہ چاہتےہیں بےشک وہ ہم پر مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔
نعمت والو! سمجھ جاؤ:
یہاں ایک بادشاہ کی مثال سے بھی سمجھ سکتے ہوجو اپنے کسی غلام کوعزت دے، اُسے اپنےخاص کپڑےپہنائے،اپناقرب بخشےاوراسےاپنےتمام خادموں اوردربانوں کاسردار بنا دے پھراُسے اپنے دروازے پر رہنے کا حکم دے اور دوسری طرف یہ فرمان جاری کرے کہ اِس کے لئے فلاں جگہ محل تعمیر کئے جائیں، بلند تخت بچھائے جائیں،طرح طرح کے کھانے چنے جائیں،اس کے لئے کنیزیں سجائی جائیں اورخوبرو نوجوان سربستہ کھڑے رہیں یہاں تک کہ جب وہ بادشاہ کی خدمت سے واپس لوٹے تو اُسے اُن محلات میں باعزت مخدوم بادشاہ کی حیثیت سے ٹھہرایا جائے۔اب بادشاہ کی خدمت اور اپنے بادشاہ بننے کے درمیان دن کی ایک گھڑی یا اس سے بھی کم وقت رہتا ہو اور اسی دوران یہ