Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
243 - 274
	یہ آیت بلعم بن باعورا اوراُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو نعمتوں کی ناشکری کرنے میں اُس کی مثل ہیں ۔ بلعم بنی اسرائیل کے بڑے  بزرگوں میں سے  تھا، اسم اعظم جانتا تھا اور لوحِ محفوظ کا لکھادیکھ لیتا تھا، بنی اسرائیل نے اس سے کہا کہ”حضرت سیِّدُنا موسٰی کَلِیْمُاللہعَلَیْہِ السَّلَام کے خلاف (ہلاکت کی)دعا کرو تاکہ حضرت سیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّکے جو احکام سناتے ہیں اُن سے ہماری جان چھوٹ جائے (مَعَاذَ اللہ)۔“چنانچہ وہ تحائف اور مال ودولت دے کربلعم کومسلسل اکساتے رہے بالآخر وہ بدبخت حضرت سیِّدُناموسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکے خلاف بددعا کرنے کے لئے راضی ہوگیاپس جیسے ہی اس نے اپنی زبان سے الفاظ نکالنے کا ارادہ کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کے دل سے ایمان  نکال لیااوراُس سے اپنے سارے انعامات چھین لئے۔
دنیا کو سب کچھ سمجھنے والا:
	مذکورہ آیتِ مبارکہ کی وضاحت یہ ہےکہ ہم نےاس بندے پردین کے معاملے میں بڑی اورعظیم نعمتیں فرمائیں،اپنی بارگاہ میں  بڑا اور بلند رُتبہ عطا کیا تووہ ہمارے نزیک جاہ وجلال اور بلند قدر ومنزلت والا ہو گیا لیکن ہماری نعمتوں سے غافل ہو کر ان کی ناقدری کر بیٹھا اورکمتر وکمینی دنیا اور گھٹیا نفسانی خواہش کی طرف مائل ہو گیا، اس نے یہ بھی نہ جانا کہ دنیا اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے چھوٹی دینی نعمت جتنی بلکہ مچھر کے پر برابر بھی اہمیت نہیں رکھتی، نعمتوں کی ناشکری میں وہ اس کتے کی طرح ہو گیاجو عزت وذلت اور بزرگی وحقارت کی پہچان ہی نہیں رکھتا، اُس کے نزدیک تمام تر عزت و بزرگی روٹی کے ایک ٹکڑے میں ہوتی ہے جسے وہ کھالے یا دستر خوان کی ایک ہڈی میں جسے اُس کی طرف پھینک دیا جائے،چاہے تُو اُسے اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے یا اپنے سامنے گندگی اور مٹی میں