مل جائےیا پسندیدہ سالن نصیب ہو جائےیا پھر بدن کی سلامتی کے لئے نیند آجائے تو اُس وقت کہتے ہیں:اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یہ اللہ کا احسان ہے۔ پھر بھلا ان جیسے غافل عاجز لوگ محنت وکوشش اور مجاہدہ کرنے والے نیک بخت لوگوں کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں؟اسی لئے یہ بے چارے محروم ہیں اور جنہیں توفیْقِ الٰہی نصیب ہے وہ کامیاب وکامران ہیں پس اسی طرح ہدایت کےمعاملےکوبھیاَحْکَمُ الْحَاکِمِیْنجَلَّ جَلَالُہٗنےتقسیم فرما دیا ہے اور یہ تفصیل ہے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کےاس مبارک فرمان کی:
اَلَیۡسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾ (پ۷،الانعام:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو۔
دوسری بات:جو نعمت کی قدر نہیں جانتا اس سے نعمت چھین لی جاتی ہے اورقدر نہ جاننے والا ناشکرا ہوتا ہےجو نعمت کا منکر ہوتا ہے اور اس کا شکربجانہیں لاتا، اس کی دلیل ربّعَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان ہے:
وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗۤ اَخْلَدَ اِلَی الۡاَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِ ۚ اِنۡ تَحْمِلْ عَلَیۡہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثۡ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ(پ۹،الاعراف:۱۷۵،۱۷۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب انھیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہو گیا اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اُسے اٹھا لیتے مگر وہ تو زمین پکڑ گیا اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے یہ حال ہے ان کا جنھوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں۔