سے بڑھ کر دولت مند اور عزت داروں سے بڑھ کر عزت دار سمجھتا ہےبلکہ کبھی کبھی تو کسی بازاری یا کسی سُست طالب علم کو اپنے جیسا علم ومحبت میں شوق ورغبت رکھنے والا سمجھ کر اس کے سامنےیہ مسئلہ بیان کر دیتا ہے مگر وہ بازاری یا سُست طالب علم اسے اہمیت نہیں دیتا۔
یہی حال اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں رجوع کرنے والے کا ہوتا ہے،وہ رِیاضت اور نفس کوشہوتوں اورلذتوں سےمحفوظ رکھنےکےلئےکس قدرمحنت وکوشش کرتاہے،اس اُمید پر کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّپوری طہارت اورآداب کےساتھ دورکعت کی توفیق عطافرمادےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں کس قدر گریہ وزاری کرتا ہے کہ شاید اللہ عَزَّ وَجَلَّقلبی صفائی اور حلاوت کے ساتھ گھڑی بھرمناجات نصیب کر دے پھر اگر وہ مہینے، سال بلکہ اپنی ساری زندگی میں ایک مرتبہ بھی اسے پانے میں کامیاب ہوجائے تو اس کو بہت بڑا احسان اور عظیم ترین نعمت سمجھتا ہے اورکس قدر خوش ہوتا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکرادا کرتا ہے اور اُن مشقتوں کی کوئی پروا نہیں کرتا جو اُس نے راتوں کو جاگ کر اُٹھائیں اور لذتوں کوچھوڑدیا۔
بے قدرے لوگ:
پھرتم ایسے لوگوں کو بھی دیکھو گے جو خود کو عبادتوں کا شوقین خیال کرتے ہیں اور چاہتے ہیں ہمیں خالص عبادت نصیب ہوجائے لیکن اگر ایسی عبادت کے لئے انہیں رات کے کھانے کا ایک لقمہ چھوڑنا پڑے یا کوئی فضول بات ترک کرنی پڑےیا پھر ایک ساعت کی نیند قربان کرنی پڑے تو ان کا نفس اس پر آمادہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے دل اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر اتفاق سے اُن کو خالص عبادت حاصل ہو بھی جائے تو وہ اُسے کوئی بڑا معاملہ نہیں سمجھتے اور نہ اُس کا کوئی بڑا شکر ادا کرتے ہیں بلکہ اُن کی خوشی اُس وقت ہوتی ہے اور اُن کی زبان سے حمد کا کلمہ اُس وقت نکلتا ہے جب اُنہیں کوئی درہَم یا روٹی کاکوئی ٹکڑا