ان پر آسان ہو گیا ، ہرسختی برداشت کرنالذت وسُرور بن گیا ہے اور انہوں نے اپنی تمام زندگی اس نعمت کی شکرگزاری میں بسر کرنے کا تہیہ کر رکھا۔پس اسی لئے یہ لوگ ہمارے عِلمِ اَزَلی میں اس عظیم نعمت اور قیمتی احسان کے اہل قرار پائے اور ہم نے تمہارے بجائے انہیں اس نعمت کے ساتھ خاص کر لیا۔
دینی نعمت کے قدردان:
یونہی تم دیکھو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنےجن لوگوں کوکسی دینی نعمت علم یا عمل کے ساتھ خاص کیا حقیقت میں وہی لوگ اس نعمت کی قدروقیمت کوزیادہ جاننے والے، اس کی زیادہ تعظیم کرنے والے، اس کے حصول میں کوشش کرنے والے اور اسے بڑا سمجھتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرنے والے ہوں گے جبکہ بعض کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس سے محروم رکھا اور انہیں تقدیرکے مطابق نعمت سے ان کی لاپرواہی اور بے تعظیمی کی وجہ سے محروم رکھا ہے پھر اگر علم وعبادت کی تعظیم عوام اور بازاری لوگوں کے دلوں میں بھی ویسی ہی ہوتی جیسی عُلَما اور عبادت گزاروں کے دلوں میں ہے تو وہ کبھی بازاروں کو ترجیح نہ دیتے بلکہ بازاروں کو چھوڑناان پر آسان ہو جاتا۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جب کوئی فقیہ (عالم)کسی ایسے مسئلے کو واضح کر لیتا ہے جو پہلے اس پر مشتبہ تھا تو اس کا دل کیسے خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور سُرور کتنا بڑھ جاتا ہے اور اس کے دل میں اس کی قدر ومنزلت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اگر اسے لاکھوں دینار بھی دیئےجاتے تو وہ اتنا خوش نہ ہوتا۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ فقیہ کو کوئی دینی مسئلہ اٹک جاتا ہے تو وہ سال بھر بلکہ 10سال تک بلکہ 20 سال تک اس میں غور وفکر کرتا رہتا ہے مگر پھر بھی اکتاتا نہیں حتّٰی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اس کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے تووہ اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّکابہت بڑااحسان اورعظیم نعمت سمجھتاہےاوراس پرخودکودولت مندوں