Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
24 - 274
دوسری گھاٹی: 		     توبہ کا بیان
توبہ نہ کرنے کی نحوست:
	اےعلم وعبادت کےطلبگار!اللہ  عَزَّ وَجَلَّتجھے توفیق دے،تجھ پر توبہ کرنا لازم ہے کیونکہ گناہوں کی نحوست بندے کو طاعات و عبادات بجالانے سے محروم کرتی اور اس پر ذلت و رُسوائی مُسلَّط کردیتی ہے۔گناہ ایک ایسی زنجیر ہے جو بندے کو عبادت ونیکی کی طرف چلنے سےروک دیتی ہے،گناہوں کابوجھ اُمورِخیر میں جلدی وآسانی اور عبادات میں تازگی کے لئےرُکاوٹ بن جاتاہےاورگناہوں پرڈٹےرہنادل کوسیاہ کردیتاہےپھرتم دل کواندھیرے اور سختی میں ڈوبا پاؤ گےجس میں خلوص، پاکیزگی،لذت اور حلاوت نام کو نہ ہوگی۔ اگر خدا کا فَضْل شامِلِ حال نہ ہوا تو رفتہ رفتہ یہ گناہ اُس شخص  کو کفر وبدبختی تک پہنچادیں گے۔
	حضورسیِّدِعالَم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اِذَاکَذَبَ الْعَبْدُ یَتَنَحّٰی عَنْہُ الْمَلَکَانِ مِنْ نَـتْنِ مَا یَخْرُجُ مِنْ فِیْہیعنی جب بندہ جھوٹ بولتاہےتودونوں محافظ فرشتے اس کے منہ سے نکلنے والی بدبو کی وجہ سے اس سے دور ہو جاتے ہیں۔“(1)اب بھلا یہ زبان ذکرِ الٰہی کے قابل کیسے ہو سکتی ہے؟الغرض گناہ پر ڈٹے رہنے والے کو نیک اعمال کی توفیق کم ہی ملتی ہے اور عبادتِ الٰہی کے لئے اس کے اعضاء تیار نہیں ہوتے اگر کبھی عبادت کااتفاق ہو جائے تو بڑی مَشَقَّت پیش آتی ہے اور اس میں لذت وحلاوت ہوتی ہے نہ صفائی اور یہ سب گناہوں کی نحوست اور توبہ کو ترک کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ اگرتورات کوعبادت کرنےاوردن کو روزہ رکھنے کی قوت نہیں رکھتا تو سمجھ لے کہ تو بیڑیوں میں جکڑاہوا ہے اورتجھے تیرے گناہوں نے جکڑرکھا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب البر والصلة،باب ما جاء فی الصدق و...الخ،۳/۳۹۲،حدیث:۱۹۷۹،بتغیرقلیل