سے۔“ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس روشن نکتے کے ساتھ انہیں جواب دیا :
اَلَیۡسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ ﴿۵۳﴾(پ۷،الانعام:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو۔
نعمت کی قدروقیمت:
آیت کی وضاحت یہ ہے کہ کریم بادشاہ نعمت اسی کو دیتا ہےجو نعمت کی قدر وقیمت جانتا ہو اور قدر وقیمت وہی جانتا ہے جو دل وجان سے اس نعمت کی طرف بڑھے،غیر کےمقابلے میں اسی کو ترجیح دے اور اس کے حصول کی راہ میں آنے والی مشکلات کی پروا نہ کرےاور ساتھ ہی ساتھ نعمت دینے والے کی چوکھٹ کو بطور شکر تھامے رکھے۔ ہمارے (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے)ازلی علم میں تھا کہ یہی کمزور لوگ اس نعمت (یعنی ایمان) کی قدر وقیمت جانتے ہیں اور شکر ادا کرنے والے ہیں لہٰذااے کافرو! یہی لوگ تم سے زیادہ اس کے حقدار تھے، تمہارے جاہ وحشمت، مال ودولت اور دنیاوی حسب ونسب کا کوئی اعتبار نہیں،تم تودین،حق اور معرفتِ الٰہی کے بجائے حسب ونسب ہی کو تمام تر نعمت سمجھتے ہواور اسی کے ساتھ ایک دوسرے پر فخر وبڑائی کا مظاہرہ کرتے ہو، کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ تم اس دین، علم اور حق کو قبول کرنے کے قریب بھی ہوتے ہو تو اسے تمہارے پاس لانے والے پر ہی احسان جتاتے ہواور اس نعمت سے تم اس لئے بھی محروم رہے کہ تم اسے حقیر سمجھتے ہو اور اس سے کوئی شغف نہیں رکھتے جبکہ وہ کمزور لوگ اس دین پر اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، اس کی خاطر پوری ہمت لگا دیتے ہیں اور اس راہ میں ان کا کچھ بھی ضائع ہوجائے یہ اس کی پروا کرتے ہیں نہ اپنے دشمنوں کو کسی خاطر میں لاتے ہیں تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہی لوگ اس نعمت کی قدر وقیمت جانتے ہیں اور ان کے دلوں میں اس کی عظمت ایسی راسخ ہوگئی ہے کہ اس کے لئے ہر شے قربان کرنا