پہنچنے والی مصیبت پر بے صبری سے روک دیا اور صبر پر اُبھارا تو یوں وہ در حقیقت شکر کرنے والا ہو گیا۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نفس کی چاہت کے باوجوداُسے ناشکری سے روکنا ایک سختی ہے جس پر شکر گزار صبر کرتا ہےاور صبر وعصمت کی توفیق بھی ایک نعمت ہے جس پر صبر کرنے والا شکر ادا کرتا ہے لہٰذانتیجہ یہ نکلا کہ صبر وشکر ایک دوسرے سے جُدا نہیں کیونکہ ان دونوں پر اُبھارنے والی بصیرت ایک ہی ہے اور وہ ہے استقامت کی بصیرت، اسی لئے ہم نےکہا کہ صبر وشکر ایک دوسرے سے جُدا نہیں۔
شکرواجب ہونے کی وجہ:
اے بندے! اس گھاٹی کو عبور کرنے میں اپنی پوری کوشش لگا دے جس کا بوجھ آسان،فائدہ بڑا اور نچوڑ و ماحاصل پسندیدہ ہے۔ اب یہاں دو بنیادی باتوں پر غور کرو۔
پہلی بات:نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو اس کی قدر وقیمت جانتا ہو اور وہ قدر جاننے والا شکر گزار ہی ہے، ہماری اس بات کی دلیل ربّعَزَّ وَجَلَّ کا وہ فرمان ہے جس میں کفار کی بات بیان کرکے ان کا رد کیا گیاہے ۔ چنانچہ، ارشادِ ربانی ہے:
اَہٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِنَا ؕ اَلَیۡسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیۡنَ﴿۵۳﴾(پ۷،الانعام:۵۳)
ترجمۂ کنزالایمان:کہیں(کافربولیں)کیایہ ہیں جن پراللہنےاحسان کیا ہم میں سےکیااللہخوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو۔
ان جاہلوں کا خیال تھا کہ عظیم نعمت اور قیمتی احسان اسی پر ہوتا ہے جس کے پاس مال زیادہ ہو اور وہ حسب ونسب میں اعلیٰ ہو ۔کفار نے کہا: ان غلام وآزاد فقیروں کوکیاہوگیا، یہ سمجھتے ہیں ہم جیسے معزز لوگوں کو چھوڑ کریہ عظیم نعمت انہیں عطا کی گئی ہے۔ پھر تکبر کرتےاورمذاق اُڑاتےہوئےکہنےلگے:”کیایہ ہیں جن پراللہ نے احسان کیا ہم میں