جس چیز کو اللہ عَزَّ وَجَلَّبھلائی اور خیر فرما دے وہ تیرے وہم وگمان میں آنے والی بھلائی سے زیادہ ہے، اس قول کی تاکید یہ بات بھی کرتی ہے کہ نعمت کا خیر ہونا یہ نہیں کہ اُس سے لذت حاصل ہوتی ہے اور طبیعت کے تقاضے پر نفس اس کی خواہش کرتا ہے بلکہ نعمت وہ ہے جو درجہ کی بلندی کو زیادہ کرے اوراسی لئے نعمت کو” زیادہ ہونے“کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا ہے ، لہٰذاجب تکلیف بندے کی عزت وشرف میں بلندی کا سبب بنے تو حقیقت میں وہ نعمت ہی ہوتی ہے اگرچہ بظاہر اسے سختی وتکلیف شمار کیا جائے۔
صابر افضل یا شاکر؟
اس بارے میں بہت اختلاف ہے کہ شکر کرنے والا افضل ہے یا صبر کرنے والا؟ اور تحقیق یہ ہے کہ حقیقت میں صبر کرنے والا ہی شکر کرنے والا ہوتا ہے اورشکر کرنے والا ہی صبر کرنے والا ہوتا ہے کیونکہ شکر گزار آزمائش وسختی کے گھر میں ہےجہاں سختی کے سوا کوئی چارہ نہیں اوراُسے بہر صورت اس پر صبر کرناہوگا اور پریشانی و بے صبری سے بچنا ہوگا کیونکہ شکر کہتے ہیں: نعمت دینے والے کی ایسی تعظیم کرنا جو اس کی نافرمانی سے روک دے جبکہ بے صبری نافرمانی ہے۔
یوں ہی صبرکرنےوالابھی نعمت سےخالی نہیں ہوتاجیساکہ گزرچکاکہ سختی بھی حقیقت میں نعمت ہےلہٰذااگروہ صبرکرےتویہ بھی درحقیقت شکرہوگاکیونکہ اُس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم کی خاطرخود کوجزع وفزع (پریشانی وبے صبری)سے روکا ہے اور شکر بھی اسی چیز کا نام ہے کہ بطور تعظیمِ الٰہی خود کو ناشکری وبے صبری سے روکے پس اُس نے خود کو نافرمانی سےروکااوراپنےنفس کوشکرپراُبھارااورعبادت پرصبرکیاتویوں وہ حقیقت میں صبرکرنے والاہوگیا اورصابرنےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تعظیم کی حتّٰی کہ اِس تعظیم نے اُسے