واطاعت کی خوب کوشش ہے کیونکہ یہ بھی نعمت کے حقوق میں سے ہے۔الغرض نافرمانی سے بچنا بے حد ضروری ہے اورتوفیق دینے والااللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے۔
شکرکی جگہ ومقام:
شکر کی جگہ دینی ودنیاوی نعمتیں ہیں جبکہ دنیاوی زندگی میں جان و مال یا اہل وعیال میں مصیبتیں اورتکلیفیں آنے کے متعلق بعض علما فرماتے ہیں: چونکہ یہ پریشانیاں ہیں تو ان پر شکر نہیں بلکہ صبرضروری ہے کیونکہ شکر تو نعمت پر ہوتا ہے کسی اور شے پر نہیں۔ جبکہ بعض علما فرماتے ہیں: ہرسختی و تکلیف کے پہلو میں کئی نعمتیں ہوتی ہیں لہٰذاان نعمتوں کو پیشِ نظر رکھ کر بندے پر شکر کرنا لازم ہے نہ کہ خاص اُس تکلیف پر۔
ہرمصیبت میں چار نعمتیں:
ایسی نعمتوں کے بارےمیں حضرت سیِّدُناابْنِ عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانےفرمایا:میں جب بھی کسی مصیبت میں گرفتار ہوا تو اس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی چار نعمتیں دیکھیں: ایک یہ کہ وہ میرے دین میں نہیں آئی، دوسری یہ کہ اس سے بڑی نہیں آئی تیسری یہ کہ میں قضائے الٰہی پر راضی رہا اور چوتھی یہ کہ اس پر مجھے ثواب کی امید ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مصیبت وسختی دور ہو جانے والی ہے ہمیشہ رہنے والی نہیں اور یہ بھی ایک نعمت ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ہے کسی اور کی طرف سے نہیں۔
تکالیف پر شکر ضروری ہے:
بعض علمائے کرام فرماتے ہیں: دنیاوی تکلیفوں پر بندے کو شکر ادا کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ تکالیف حقیقت میں نعمتیں ہوتی ہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ ان تکالیف کے بدلے بندے کوآخرت میں کثیر ثواب، عظیم منافع اور عزت والے انعامات دیئے جائیں گے جن